خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 666 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 666

خطبات مسرور جلد 12 666 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 نومبر 2014ء خواب میں دیکھا ہے کہ وہ بہت گہرے پانی میں ڈوب رہے ہیں اور کوئی ان کی مدد کے لئے نہیں آ رہا۔اتنے میں وہ ایک کشتی دیکھتے ہیں جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سوار ہیں۔حضور نے ان کا ہاتھ پکڑا اور کشتی میں اپنے ساتھ بٹھا لیا اور فرمایا کہ آئندہ کبھی بھی چندہ دینے میں سستی نہ کرنا۔اس خواب کے بعد انہوں نے جماعت سے پختہ وعدہ کیا کہ آئندہ کبھی بھی وہ چندہ دینے میں سستی نہیں کریں گے اور نہ ہی وہ جماعتی کاموں میں غفلت برتیں گے۔پس جہاں یہ چندے کی اہمیت کا ثبوت ہے، وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا بھی ثبوت ہے کہ دور دراز کے ایک ملک میں اور اس ملک کے بھی ایک دور دراز علاقے میں ایک شخص احمدیت قبول کرتا ہے۔پھر پیچھے ہٹ جاتا ہے اور اس کی رہنمائی پھر خواب کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔بینن کے ریجن کو تو نو کے ایک زون کے ایک داعی الی اللہ شافیو صاحب بتاتے ہیں کہ جب وہ فطرانہ وصول کرنے کے لئے گئے تو اپنے علاقے کے ایک گھر میں پہنچے اور گھر کے سر براہ سے جب فطرانہ پوچھا گیا تو کہنے لگے کہ میرے سارے گھر میں صرف یہ پندرہ سوفرانک سیفا ہی ہیں اور ایک دوروز میں میری بیوی کی ڈیلوری ہونے والی ہے، بچہ پیدا ہونے والا ہے۔اس کے لئے مجھے ساڑھے چار ہزار فرانک سیفا چاہئے اور آج ہی میرا مالک مکان بھی کرائے کے ساڑھے تین ہزار فرانک وصول کرنے آیا ہے اور ناراض ہو کر گیا ہے کہ میں اسے کرایہ نہ دے سکا تو میرے پاس تو دینے کے لئے کچھ نہیں ہے۔بہر حال شا فیوصاحب جو لوکل سیکرٹری ہیں۔انہوں نے ان کو سمجھایا۔گوایسی حالت میں یہ نہیں کہنا چاہئے کہ چندہ دو لیکن بہر حال انہوں نے اپنے حالات کے مطابق انہیں سمجھایا کہ ایسی حالت میں بھی اگر تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں دو تو پھل لگتا ہے۔بلکہ ایسے حالات میں تو ہمارے وہاں کے مبلغین کو چاہئے کہ ان لوگوں کی مدد کریں۔لیکن بہر حال جو آگے واقعہ آتا ہے اس سے پتا لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی مسیح موعود کی جماعت میں شامل ہونے والوں کی کس طرح مدد فرماتا ہے اور ان کے الفاظ کی کس طرح لاج رکھتا ہے۔جب سیکرٹری صاحب نے ان کو کہا کہ اللہ تعالی مدد کرے گا اور خدا کی راہ میں قربانی خوب پھل لاتی ہے تو اس نے ایک ہزار فرانک سیفا جو ہے وہ فطرانہ اور باقی پانچ سو تحریک جدید میں دے دیا۔ابھی تین دن نہیں گزرے تھے کہ اسی آدمی نے بڑی خوشی سے بتایا کہ اس روز جب آپ ان سے چندہ وصول کر کے آئے تو ایک آدمی آیا اور مجھے دس ہزار فرانک سیفا دے کر کہنے لگا کہ یہ رقم اس فلاں آدمی نے بھجوائی ہے جس نے کبھی مجھ سے بارہ ہزار فرانک ادھار لئے تھے اور کئی مرتبہ مانگنے کے باوجود وہ قرض واپس نہیں کر رہا تھا۔لیکن بغیر مانگے ہی