خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 31
خطبات مسرور جلد 12 31 3 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 جنوری 2014ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 17 جنوری 2014 ء بمطابق 17 صلح 1393 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: گزشتہ خطبہ میں یہ ذکر ہورہا تھا کہ عملی اصلاح کے لئے جو روکیں راہ میں حائل ہیں، جو اسباب ہمیں بار بار پیچھے کھینچتے ہیں اُن کو دُور کرنے کے لئے کن چیزوں کی ضرورت ہے اور اس بارے میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ اگر انسان میں قوت ارادی صحیح اور پورا علم اور قوت عمل پیدا ہو جائے تو پھر عملی اصلاح کی برائیوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔کیونکہ اعمال کی کمزوری ہوتی ہی اُس وقت ہے جب قوت ارادی نہ ہو، یا یہ علم نہ ہو کہ اچھے اعمال کیا ہیں اور برے اعمال کیا ہیں؟ اور اچھے اعمال کو حاصل کس طرح کرنا ہے، کس طرح بجالانا ہے اور برے اعمال کو دور کرنے کی کس طرح کوشش کرنی ہے؟ اور پھر قوت عمل ہے جو اتنی کمزور ہو کہ برائی کا مقابلہ نہ کر سکے۔پس قوت ارادی کو مضبوط کرنا علمی کمزوری کو دور کرنا اور عملی طاقت پیدا کرنا، یہ بڑا ضروری ہے۔عملی طاقت اپنی کوشش سے بھی پیدا ہوتی ہے اور اگر انسان بہت ہی کمزور ہو تو پھر بیرونی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔بہر حال ان باتوں کا گزشتہ خطبہ میں ذکر ہو چکا ہے۔اس بارے میں بعض مثالوں سے مزید تفصیل اس کی بیان کروں گا۔جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں کہا تھا کہ اس بارے میں مزید وضاحت کرنی ہے اور اس کی ضرورت ہے۔یہ تو ہم نے دیکھ لیا کہ عملی اصلاح میں جن تین باتوں کی ضرورت ہے اُن میں سب سے پہلی قوتِ ارادی ہے۔یہ قوت ارادی کیا چیز ہے؟ ہم میں سے بعض کے نزدیک یہ عجیب بات ہوگی کہ قوت ارادی کے