خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 336
خطبات مسرور جلد 12 336 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 مئی 2014ء کرتے تھے۔گزشتہ دنوں جب لندن آئے تھے تو میں نے کہا امریکہ کے ایک بڑے سرجن بن گئے ہیں تو اب کسی اچھے ریسٹورنٹ میں لے کے چلتے ہیں۔کہنے لگے میں وہی عاجز انسان ہوں۔کسی غریب سے ہوٹل میں چلے جائیں وہیں کھانا کھا لیں گے۔کبھی آپ کے منہ سے غیر شائستہ لفظ نہیں سنا۔نظام جماعت کے بارے میں بڑی غیرت رکھتے تھے اور کسی کی مجال نہیں تھی کہ آپ کے سامنے کسی چھوٹے سے چھوٹے جماعتی عہدیدار کے خلاف بھی کوئی بات کر سکے۔ایک مثالی احمدی تھے۔غریب دوستوں کی مالی مدد کرتے تھے لیکن ایسے رنگ میں کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔ان کے ایک دوست ہیں وہ کہتے ہیں کہ ان کی آواز نہایت رسیلی اور دلکش اور دلر ہاتھی۔تلاوت اور تقریر کے مقابلوں میں بچپن سے ہی حصہ لیا کرتے تھے۔ہمیشہ اچھی پوزیشن لیتے رہے۔کہتے ہیں حضرت مصلح موعود کے چند شعرا کثر پڑھا کرتے تھے جو ابھی بھی ان کی شہادت کے بعد میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ کے وہ شعر یہ ہیں کہ عبث ہیں باغ احمد کی تباہی کی یہ تدبیریں چھپی بیٹھی ہیں تیری راہ میں مولیٰ کی تقدیریں بھلا مومن کو قاتل ڈھونڈھنے کی کیا ضرورت ہے نگاہیں اس کی بجلی ہیں تو آہیں اس کی شمشیریں تیری تقصیریں خود ہی تجھ کو لے ڈوبیں گی اے ظالم لپٹ جائیں گی تیرے پاؤں میں وہ بن کے زنجیریں کلام محمود صفحہ 282 شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ ) پھر ڈاکٹر سلطان مبشر صاحب لکھتے ہیں کہ غریبوں کا بہت خیال رکھنے والے تھے۔گزشتہ سال آئے تو بنک اکا ؤنٹ کھلوا کے مجھے بتایا کہ میں نے یہاں پیسے جمع کروا دیئے ہیں ان سے ضرورتمندوں کی مدد کر دیا کرو۔ایک دن فون آیا کہ فلاں جماعت کا سابق کارکن ہے۔اب وہ کارکن نہیں اور ان کو پیسوں کی ضرورت ہے۔وہ مکان بنا رہے ہیں تو ان کو ایک لاکھ روپیہ دے دو۔اسی طرح یہ بھی کہا کہ اگر کوئی سٹوڈنٹ جو میڈیکل کالج میں پڑھنا چاہے تو میں اس کا سارا خرچہ دوں گا۔ان کے ایک دوست حافظ عبد القدوس نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب فضل عمر ہسپتال میں تھے تو ایک دن دو پہر کو ان کے گھر تشریف لائے اور بتایا کہ یہ لاوارث مریض ہے اسے ایک بوتل خون تو میں نے