خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 79 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 79

خطبات مسرور جلد 11 79 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم فروری 2013ء ابھی جمعہ کے بعد نمازوں کے بعد میں دو جنازے بھی پڑھاؤں گا۔ایک تو حاضر جنازہ ہے ( یہاں حضور نے جنازہ کے بارہ میں استفسار فرمایا کہ آ گیا ہوا ہے نا؟ ) جو مکرم احسان اللہ صاحب کراچی کا تھا جو آجکل تو یو۔کے میں ہی تھے۔19 جنوری کو 57 سال کی عمر میں یہ کینسر کے عارضہ کی وجہ سے وفات پاگئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ آپ حضرت احمد دین صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پوتے بھی تھے۔نمازوں کے پابند، خدمت گزار، بڑے شفیق، ہمدرد، صابر و شاکر، دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے، بڑے خوش اخلاق تھے۔نیک اور مخلص انسان تھے۔والدین کی بے انتہا خدمت کرنے والے تھے۔بیوی بچوں سے ہمیشہ پیار کا سلوک کیا اور سختی نہیں کی اور اگر کبھی ہوگئی تو فوراً احساس ہوا اور پھر اُس کا مداوا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت فرمائے اور ان بچوں کو بھی جو پاکستان میں ہی ہیں اپنے حفظ وامان میں رکھے۔ان کا خود کفیل ہو۔یہ گزشتہ دس بارہ سال سے یہاں یو کے میں مقیم تھے۔اور اسائلم کے لئے آئے تھے اور تین چار سال پہلے ہی ان کا کیس پاس ہوا تھا اور یہاں جماعتی شعبہ جائیداد میں مساجد کے تحت ان کو خدمت کی توفیق بھی مل رہی تھی۔ان کے پسماندگان میں ان کی اہلیہ کے علاوہ چھ بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ سب کا کفیل ہو۔دوسرا جنازہ غائب ہے جو علاء نجمی صاحب کا ہے جو مکرم عکرمہ مجھی صاحب کے بڑے بھائی تھے۔ان کو دس سال پہلے جگر کا کینسر ہوا تھا جس کے بعد ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ چند ماہ کے مہمان ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے دس سال تک یہ زندہ رہے۔9 دسمبر 2012ء کو اپنی وفات والے دن گھر میں اکیلے تھے۔ان کی بڑی بیٹی سکول سے واپس آئی تو اُسے کہا کہ مجھے کچھ دیر کے لئے اکیلا چھوڑ دو کیونکہ میں نماز پڑھنا چاہتا ہوں۔کچھ دیر کے بعد جب ان کی بیٹی کمرے میں گئی تو دیکھا کہ نماز ادا کر کے بستر پر لیٹنے کے بعد وہ خدا کے حضور حاضر ہو چکے تھے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔مرحوم بھی نہایت نیک اور مخلص تھے۔فلسطین کے رہنے والے تھے۔خلافت کے فدائی اور جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے۔مختلف عرب احباب کے ساتھ مل کر انہوں نے عربی پروگرام "الحوار المباشر “ کوضبط تحریر میں لانے کا کام مکمل کیا۔اسی طرح عربک ڈیسک کی طرف سے خطبات جمعہ اور مختلف کتب کے تراجم کی پروف ریڈنگ وغیرہ کا کام بھی کرتے تھے۔مرحوم موصی تھے اور ان کے لواحقین میں والدین بھی ہیں اور بیوی اور دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔اکلوتا بیٹا میری خلافت کے انتخاب والے دن جب خلافت خامسہ کا انتخاب ہوا ہے تو اس دن پیدا ہوا تھا۔اس لئے انہوں نے اس کا نام بھی مسرور رکھا تھا۔