خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 53
خطبات مسرور جلد 11 53 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جنوری 2013ء وہ بھی قلعہ کے اندر داخل ہونے کے لئے سعی کر رہا ہے مگر دروازہ اُسے بھی نہیں ملتا۔ابھی ہم اسی جستجو میں تھے کہ ہمیں معلوم ہوا کہ قلعہ کے اوپر جو چبوترہ ہے اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فداہ ابی واقی، جماعت نماز کرا رہے ہیں ( باجماعت نماز وہاں ہو رہی ہے ) یہ دیکھ کر ہم دونوں بے تاب اور بیقرار ہو گئے۔اسی اضطراری حالت میں کہتے ہیں کہ میں نے دوسرے ساتھی کے گلے میں اپنے دونوں ہاتھ ڈال کر اللہ ھو “ کا ذکر جس طریق سے کہ مجھے میرے پیر سید غلام شاہ صاحب نے بتلایا ہوا تھا، کرنا شروع کر دیا۔جس کی برکت سے ہم دونوں پرواز میں آئے اور اُڑ کر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے دائیں جانب پہلی صف میں جہاں کہ صرف دو آدمی کی جگہ خالی تھی کھڑے ہو کر سجدہ میں شامل ہو گئے اور سجدہ کے اندر میں اپنی اس خوش نصیبی کو محسوس کرتے ہوئے کہ ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں جانب اور پہلی صف میں جگہ میسر آئی ، اس قدر رقت پیدا ہوئی اور اس زور سے اللہ ھو کا ذکر جاری ہوا کہ جب میں اسی حالت میں بیدار ہوا تو سانس بہت ہی زور سے آ رہا تھا۔اور آنکھوں سے آنسوؤں کا تار جاری تھا اور سانس اس قدر بلند تھا کہ اس سانس کو سن کر گھر والے بھی بیدار ہو گئے اور مجھے پوچھنے لگے۔کیا ہوا؟ کیا ہوا؟ مگر چونکہ ابھی اللہ ھو کا ذکر برابر جاری تھا اور سانس زور زور سے نکل رہا تھا، اس کی وجہ سے میں انہیں کوئی جواب نہیں دے سکا۔اس لئے میں جوش کو فرو کرنے کے لئے اور پردہ پوشی کے لئے اندر سے صحن میں چلا گیا اور جب حالت درست ہوئی تو میں پھر اندر آیا اور چار پائی پر لیٹ گیا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 6 صفحه 126-125 از روایات حضرت امیر خان صاحب) پھر آگے انہوں نے بیان فرمایا ہے کہ اس کا اثر ہوا اور کچھ عرصے کے بعد اُن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی توفیق بھی عطا فرمائی۔حضرت میاں محمد ابراہیم صاحب پیدائشی احمدی تھے، 1903ء میں ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت نصیب ہوئی۔کہتے ہیں میں نے سب سے پہلے حضرت اقدس کو اُس وقت دیکھا جب حضور جہلم تشریف لے جارہے تھے۔واپسی پر بھی دیکھا تھا۔پھر لاہور 1904ء میں، پھر 1905ء میں میں قادیان گیا۔قادیان جانے سے پہلے مجھے ایک خواب آئی تھی جس کا مفہوم یہ تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ والد صاحب گھر سے باہر گئے ہوئے ہیں اور گھر میں صرف میں اور میری چھوٹی ہمشیرہ ہیں۔دیکھا کہ دو آدمی دروازے پر آئے ، دستک دی اور آواز دی۔میں نے باہر نکل کر دروازہ کھولا۔وہ دونوں میری درخواست پر اندر تشریف لے آئے۔میں نے دیکھا کہ ہمارے گھر کے صحن میں ایک دری اور تین کرسیاں