خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 532 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 532

خطبات مسرور جلد 11 532 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 ستمبر 2013 ء مضبوط جڑوں کو ہم سے جدا نہیں کر سکتی۔احمدی خدا تعالیٰ کے فضلوں کے نظاروں کو دیکھ کرکس طرح اپنے خدا سے کئے ہوئے عہد سے منہ موڑ سکتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق سے جڑ کر پھر کس طرح اپنے بندھن کو توڑ سکتا ہے۔وہ بندھن جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بندھن کو مزید مضبوط کر دیا ہے، جس نے ایمان میں ترقی کے وہ راستے دکھائے ہیں جن سے غیر احمدی مسلمان نا آشنا ہیں۔پس ہر احمدی کو چاہئے کہ ان مخالفتوں کی آندھیوں کے باوجود اپنے ایمان کو بڑھاتا چلا جائے۔استقامت کے ان نمونوں پر ہمیشہ قائم رہے۔ایمان و اخلاص میں بڑھتا چلا جائے اور ثبات قدم کے لئے دُعا بھی کرے کیونکہ ثبات قدم بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی عطا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے کے لئے اُس کے آگے جھکنا اور اُس کی عبادت کا حق ادا کرنا بھی بہت زیادہ ضروری ہے۔اسی طرح اپنی عملی حالتوں کو پہلے سے بہتر کرنے کی طرف بھی بہت توجہ دیں۔اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنا اور اپنی عملی حالتوں کو بہتر کرنا صرف اُن احمدیوں کا کام نہیں جن پر سختیاں ہو رہی ہیں بلکہ ہر احمدی کو اپنی حالتوں کے جائزے لینے چاہئیں۔سنگا پور کے احمدی بھی اور برما کے احمدی بھی اور تھائی لینڈ کے احمدی بھی اور دنیا کے ہر ملک کے احمدی اگر اپنی ایمانی حالتوں کا جائزہ نہیں لیں گے تو اس میں ترقی نہیں کریں گے اور اگر احمدیت میں ترقی نہیں ہوگی تو احمدی ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔پس ہر احمدی کو اپنے ایمان وایقان میں ترقی کی طرف توجہ دینی چاہئے۔میں نے ملائیشیا کا بھی ذکر کیا تھا، وہاں بھی مخالفت ہے۔وقتاً فوقتاً وہاں بھی ابال اُٹھتا رہتا ہے۔لیکن انڈو نیشیا والے حالات وہاں نہیں ہیں۔سنا ہے مسلمان تنظیموں نے جگہ جگہ سائن بورڈ لگائے ہوئے ہیں جن پر لکھا ہوا ہے ” قادیانی مسلمان نہیں ہیں یا اس قسم کے الفاظ ہیں۔جو یقیناً جب ایک احمدی گزرتے ہوئے دیکھتا ہے تو اُس کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔جگہ جگہ دیکھی ہوئی تحریر میں احمدیوں کی دل آزاری کرتی ہیں۔لیکن احمدی قانون کو ہاتھ میں نہ لینے کی وجہ سے ہمیشہ صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ ہم احمدی مسلمان ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ ہم اِن دوسروں سے زیادہ اچھے مسلمان ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ ہمارے دل اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے بھرے ہوئے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا تھا کہ لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ “ کہنے والے کو کافر نہ کہو کیونکہ یہ کافر کہنا تم پر الٹ کر پڑے گا بلکہ فرمایا کہ جو صرف لا إلهَ إِلَّا الله کہتا ہے وہ بھی مسلمان ہے۔بلکہ قرآن شریف تو کہتا ہے کہ جو تمہیں جو سلام کہے اُسے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو۔پس قرآن کریم کی تعلیم تو یہ ہے اور ان لوگوں نے اپنا ایک علیحدہ اسلام بنالیا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ کے احکامات کو بھی انہوں نے اپنے