خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 308
خطبات مسرور جلد 11 308 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 مئی 2013 ء شرارت، کوئی حملہ، کسی حکومت کی مدد خلافت احمدیت کو اس کے مقاصد سے روک نہیں سکتی ، نہ جماعت احمدیہ کی ترقی کو روک سکتی ہے۔افراد جماعت کو بھی یادرکھنا چاہئے جیسا کہ میں نے کہا، تقویٰ پر چلنا، نمازوں کا قیام اور مالی قربانیوں میں بڑھنا انہیں خلافت کے فیض سے فیضیاب کرتا چلا جائے گا۔پس اس کیلئے ہر فرد کا فرض ہے کہ وہ بھر پور کوشش کرے۔تا کہ اللہ تعالیٰ کے رحم سے وافر حصہ لینے والا ہو۔اب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رسالہ الوصیت میں سے بعض اقتباسات پڑھتا ہوں جو آپ نے اُن لوگوں کے لئے تحریر فرمائے ہیں جن میں نظامِ خلافت جاری رہنا ہے یا جنہوں نے خلافت سے فیض پانا ہے یا جنہوں نے جماعت سے منسلک رہنا ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی ہے۔آپ فرماتے ہیں: اور چاہئے کہ تم بھی ہمدردی اور اپنے نفسوں کے پاک کرنے سے رُوح القدس سے حصہ لو کہ بجز روح القدس کے حقیقی تقویٰ حاصل نہیں ہو سکتی اور نفسانی جذبات کو بکلی چھوڑ کر خدا کی رضا کے لئے وہ راہ اختیار کرو جو اس سے زیادہ کوئی راہ تنگ نہ ہو۔دنیا کی لذتوں پر فریفتہ مت ہو کہ وہ خدا سے جدا کرتی ہیں اور خدا کے لئے تلخی کی زندگی اختیار کرو۔وہ درد جس سے خدا راضی ہو اُس لذت سے بہتر ہے جس سے خدا ناراض ہو جائے۔اور وہ شکست جس سے خدا راضی ہو اس فتح سے بہتر ہے جو موجب غضب الہی ہو۔اُس محبت کو چھوڑ دو جو خدا کے غضب کے قریب کرے۔اگر تم صاف دل ہو کر اس کی طرف آجاؤ تو ہر ایک راہ میں وہ تمہاری مدد کرے گا اور کوئی دشمن تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔خدا کی رضا کو تم کسی طرح پاہی نہیں سکتے جب تک تم اپنی رضا چھوڑ کر، اپنی لذات چھوڑ کر، اپنی عزت چھوڑ کر، اپنا مال چھوڑ کر، اپنی جان چھوڑ کر، اس کی راہ میں وہ تلخی نہ اُٹھاؤ جو موت کا نظارہ تمہارے سامنے پیش کرتی ہے۔لیکن اگر تم تلخی اُٹھا لو گے تو ایک پیارے بچے کی طرح خدا کی گود میں آجاؤ گے اور تم اُن راستبازوں کے وارث کئے جاؤ گے جو تم سے پہلے گزرچکے ہیں۔اور ہر ایک نعمت کے دروازے تم پر کھولے جائیں گے۔لیکن تھوڑے ہیں جو ایسے ہیں۔خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تقویٰ ایک ایسا درخت ہے جس کو دل میں لگانا چاہئے۔وہی پانی جس سے تقویٰ پرورش پاتی ہے تمام باغ کو سیراب کر دیتا ہے۔تقویٰ ایک ایسی جڑ ہے کہ اگر وہ نہیں تو سب کچھ بیچ ہے اور اگر وہ باقی رہے تو سب کچھ باقی ہے۔انسان کو اس فضولی سے کیا فائدہ جو زبان سے خدا طلبی کا دعوی کرتا ہے لیکن قدم صدق نہیں رکھتا۔دیکھو میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ آدمی ہلاک شدہ ہے جو دین کے ساتھ کچھ دنیا کی ملونی رکھتا ہے اور اس نفس سے جہنم بہت قریب ہے جس کے تمام ارادے خدا کے لئے