خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 221
خطبات مسرور جلد 11 221 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 5 اپریل 2013ء پس یہ حکمت سے بات کرنا آپس میں بھی ضروری ہے اور تبلیغ کے لئے بھی ضروری ہے۔تربیت کے لئے بھی ضروری ہے اور دنیا کو خدا تعالیٰ کی طرف بلانے کے لئے بھی ضروری ہے تبلیغ کے راستے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کھول دیئے۔اس سے فائدہ اُٹھانا اور ایک ہو کر ایک مہم کی صورت میں تبلیغ کے میدان میں اترنا اب افراد جماعت کا کام ہے۔آپ پر منحصر ہے کہ کس حد تک اس کو بجالاتے ہیں۔اخباروں نے تو مسجد کے حوالے سے خبریں لگا دیں کہ اسلام نے جھنڈے گاڑ دیئے۔خلیفہ نے کہا کہ سترھویں صدی میں مسلمانوں کو یہاں سے نکالا گیا تھا اب ہم نے واپس یہاں آنا ہے۔لیکن صرف ان خبروں سے تو ہمارا مقصد حاصل نہیں ہوگا۔اس سے ملتی جلتی خبریں تو حضرت خلیفتہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے حوالے سے بھی اخباروں میں شائع ہوئی تھیں جب مسجد بشارت پید رو آباد کا افتتاح ہوا تھا۔لیکن جائزہ لیں۔کیا گزشتہ تیس سال میں ہم نے کچھ حاصل کیا۔پس ترقی کرنے والی قومیں اخباری خبروں سے خوش نہیں ہوتیں۔مقصد حاصل کرنے والی قو میں ریسپشن میں یا دوستوں کی مجالس میں مہمانوں کے جذباتی اظہار سے خوش نہیں ہو جایا کرتیں بلکہ اپنے جائزے لیتی ہیں۔نئے نئے پروگرام بناتی ہیں۔آپس میں ایک اکائی بن کر نئے عزم کے ساتھ اپنے پروگراموں کو عملی جامہ پہناتی ہیں۔اور اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھتیں جب تک اپنے مقصد کو حاصل نہ کر لیں۔چھوٹی چھوٹی باتیں اُن کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔اس ٹوہ میں نہیں رہتیں کہ امیر جماعت نے یا صدر جماعت نے میرے متعلق کیا بات کی تھی بلکہ ایسی باتیں پہنچانے والوں کو ترقی کرنے والے لوگ یہ کہتے ہیں کہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی میرے سامنے کوئی حیثیت نہیں ہے۔میں نے تو زمانے کے امام کے ساتھ عہد بیعت باندھا ہوا ہے اور اُسے میں نے پورا کرنا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنا ہے۔ان باتوں کی طرف توجہ تو میرے خیالات کو منتشر کر دے گی اور میں اپنے مقصد کو بھول جاؤں گا۔اپنے ہم وطنوں کو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لانے میں یہ باتیں آپس کی چپقلشیں روک بن جائیں گی۔میرے سے تفرقہ کا اظہار ہوگا۔اس طرح میں اپنی دنیا و عاقبت بر باد کرنے والا بن جاؤں گا۔پس اگر تمہیں میرے سے ہمدردی ہے، اگر تمہیں جماعت سے ہمدردی ہے تو یہ با تیں مجھ تک نہ پہنچاؤ بلکہ کسی شخص کو بھی ان کے بارے میں جو باتیں تم سنو وہ نہ بتاؤ کیونکہ یہ چپلی کے زمرہ میں آتی ہیں۔اگر یہ سوچ ہر احمدی کی، ہر مبلغ کی ، ہر عہدیدار کی ہو جائے گی تو پھر انشاء اللہ تعالیٰ انقلاب کے راستے کھلتے چلے جائیں گے۔پس ہر سطح پر یہ عزم کریں ، چاہے وہ خادم ہیں یا انصار ہیں یا لجنہ کے ممبر ہیں کہ میں نے اسلام کی سربلندی کی خاطر ہر قسم کے تفرقے کو ختم کرنا ہے اور ہر قسم کی رنجشوں اور فتنوں کو جڑ سے اکھیڑنا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔