خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 71
خطبات مسرور جلد 11 71 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم فروری 2013ء ایک آندھی آئی لیکن وہ مٹھی ہی تھی جس نے وہ آندھی کا سبب پیدا کر دیا ) فرمایا اور وہ سب اندھوں کی طرح ہو گئے اور ایسی سراسیمگی اور پریشانی ان میں پیدا ہوگئی کہ مدہوشوں کی طرح بھاگنا شروع کیا۔اسی معجزہ کی طرف اللہ جل شانہ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے کہ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رخی (الانفال : 18 ) یعنی جب تو نے اس مٹھی کو پھینکا وہ تو نے نہیں پھینکا بلکہ خدا تعالیٰ نے پھینکا۔( کیونکہ اُس مٹھی کے پیچھے خدا تعالیٰ کی طاقت کارفرما تھی یعنی در پردہ الہی طاقت کام کر گئی۔انسانی طاقت کا یہ کام نہ تھا۔“ پھر فرمایا : ” اور ایسا ہی دوسرا معجزہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جوشق القمر ہے ( یعنی چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا جو واقعہ آتا ہے اسی الہی طاقت سے ظہور میں آیا تھا کہ کوئی دعا اس کے ساتھ شامل نہ تھی کیونکہ وہ صرف انگلی کے اشارہ سے جو الہی طاقت سے بھری ہوئی تھی وقوع میں آ گیا تھا۔اور اس قسم کے اور بھی بہت سے معجزات ہیں جو صرف ذاتی اقتدار کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھلائے جن کے ساتھ کوئی دعانہ تھی۔کئی دفعہ تھوڑے سے پانی کو جو صرف ایک پیالہ میں تھا اپنی انگلیوں کو اس پانی کے اندر داخل کرنے سے اس قدر زیادہ کر دیا کہ تمام لشکر اور اونٹوں اور گھوڑوں نے وہ پانی پیا اور پھر بھی وہ پانی ویسا ہی اپنی مقدار پر موجود تھا۔یہ منجزات دکھائے ) اور کئی دفعہ دو چار روٹیوں پر ہاتھ رکھنے سے ہزار ہا بھوکوں پیاسوں کا ان سے شکم سیر کر دیا“۔(یعنی پیٹ بھر دیا)’ اور بعض اوقات تھوڑے دودھ کو اپنے لبوں سے برکت دے کر ایک جماعت کا پیٹ اس سے بھر دیا۔اور بعض اوقات شور آب کنوئیں میں یعنی نمکین پانی والے کنوئیں میں ) اپنے منہ کا لعاب ڈال کر اس کو نہایت شیر میں کر دیا۔اور بعض اوقات سخت مجروحوں پر اپنا ہاتھ رکھ کر ان کو اچھا کر دیا۔اور بعض اوقات آنکھوں کو جن کے ڈیلے لڑائی کے کسی صدمہ سے باہر جا پڑے تھے (آنکھیں باہر آ گئی تھیں، ڈیلا) ”اپنے ہاتھ کی برکت سے پھر درست کر دیا۔( واپس رکھ دیا اور آنکھ اُسی طرح سالم ہوگئی ایسا ہی اور بھی بہت سے کام اپنے ذاتی اقتدار سے کئے جن کے ساتھ ایک چھپی ہوئی طاقت الہی مخلوہ تھی۔“ ( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 66-65) پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمیشہ کی آسمانی زندگی کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔یہ کہتے ہیں ناں کہ عیسی آسمان پر زندہ ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ ہمیشہ کی آسمانی زندگی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔فرمایا کہ: