خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 1
خطبات مسرور جلد 11 1 1 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 4 جنوری 2013ء خطبه جمع سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسروراحمد خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 4 جنوری 2013ء بمطابق 4 صلح 1392 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ ثُمَّ لَا يُتَّبِعُونَ مَا انْفَقُوا مَنَّا وَلَا أَذًى لَّهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمُ - وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة:263) اس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو اپنے اموال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر جو وہ خرچ کرتے ہیں اُس کا احسان جتاتے ہوئے یا تکلیف دیتے ہوئے پیچھا نہیں کرتے۔اُن کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور اُن پر کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ غم کریں گے۔اس آیت کے مضمون کا جو ادراک آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے والوں کو ہے، وہ کسی اور میں نہیں۔یہ لوگ بے لوث، بے نفس ہو کر مالی قربانی کرتے ہیں۔مالی قربانی کی خواہش رکھتے ہیں۔اگر خواہش کے مطابق نہ دے سکیں تو بے چین ہو جاتے ہیں۔پرانے احمدیوں کا بھی یہی حال ہے اور نئے آنے والوں کا بھی۔ابھی کل ہی مجھے ایک عرب فیملی ملی۔دونوں میاں بیوی بہت پڑھے لکھے ہیں۔پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے۔بچے بھی ماشاء اللہ بڑے شریف النفس ہیں اور دین کی طرف رغبت رکھنے والے ہیں۔باوجود اس کے کہ ابھی بالکل نوجوانی کی عمر ہے ، نئے احمدی ہیں، جماعت کے ساتھ بڑا تعلق ہے اور اُن میں ایک تڑپ بھی ہے۔ایک بچہ تو ابھی جوانی میں قدم رکھ رہا ہے لیکن دین کے معاملے میں انتہائی سنجیدہ