خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 37
خطبات مسرور جلد 11 37 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جنوری 2013ء ماں اور باپ دونوں کا فرض ہے کہ خاص کوشش کریں۔واقفین کو بچوں کو بھی میں کہتا ہوں جو بارہ تیرہ سال کی عمر کو پہنچ چکے ہیں کہ وہ اپنے بارے میں سوچنا شروع کر دیں، اپنی اہمیت پر غور کریں۔صرف اس بات پر خوش نہ ہو جائیں کہ آپ وقف کو ہیں۔اہمیت کا پتہ تب لگے گا جب اپنے مقصد کا پتہ لگے گا کہ کیا آپ نے حاصل کرنا ہے۔اُس کی طرف توجہ پیدا ہوگی۔اور پندرہ سال کی عمر والے لڑکوں اور لڑکیوں کو تو اپنی اہمیت اور اپنی ذمہ داریوں کا بہت زیادہ احساس ہو جانا چاہئے۔ان آیات میں صرف ماں باپ یا نظام جماعت کی خواہش یا ایک گروہ یا چندلوگوں کی خواہش اور ذمہ داری کا بیان نہیں ہوا بلکہ بچوں کو بھی توجہ دلائی گئی ہے۔پہلی بات جو ہر وقف کو بچے میں پیدا ہونی چاہئے ، وہ اس توجہ کی روشنی میں یہ بیان کر رہا ہوں۔اور وہ ان آیات میں آئی ہے کہ اُس کی ماں نے اُس کی پیدائش سے پہلے ایک بہت بڑے مقصد کے لئے اُسے پیش کرنے کی خواہش دل میں پیدا کی۔پھر اس خواہش کے پورا ہونے کی بڑی عاجزی سے دعا بھی کی۔پس بچے کو اپنے ماں باپ کی، کیونکہ اس خواہش اور دعا میں بعد میں باپ بھی شامل ہو جاتا ہے، اُن کی خواہش اور دعا کا احترام کرتے ہوئے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی نذر ہونے کا حق دار بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔اور یہ بھی ہوسکتا ہے جب اپنے دل و دماغ کو اپنے قول و فعل کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق بنانے کی طرف توجہ ہو۔دوسری بات یہ کہ ماں باپ کا آپ پر یہ بڑا احسان ہے اور یہ احسان کرنے کی وجہ سے اُن کے لئے یہ دعا ہو کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے۔آپ کی تربیت کے لئے اُن کی طرف سے اُٹھنے والے ہر قدم کی آپ کے دل میں اہمیت ہو۔اور یہ احساس ہو کہ میرے ماں باپ اپنے عہد کو پورا کرنے کے لئے جو کوشش کر رہے ہیں میں نے بھی اُس کا حصہ بننا ہے، اُن کی تربیت کو خوشدلی سے قبول کرنا ہے۔اور اپنے ماں باپ کے عہد پر کبھی آنچ نہیں آنے دینی۔دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کے عہد کا سب سے زیادہ حق ایک واقف ٹو کا ہے۔اور واقف ٹو کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ یہ عہد سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر میں نے پورا کرنا ہے۔تیسرے یہ کہ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہر قربانی کے لئے صبر اور استقامت دکھانے کا عہد کرنا ہے۔جیسے بھی کڑے حالات ہوں، سخت حالات ہوں، میں نے اپنے وقف کے عہد کو ہر صورت میں نبھانا ہے، کوئی دنیاوی لالچ کبھی میرے عہد وقف میں لغزش پیدا کرنے والا نہیں ہوسکتا۔اب تو اللہ تعالیٰ کا جماعت پر بہت فضل اور احسان ہے۔خلافت ثانیہ کے دور میں تو بعض موقعوں پر ، بعض سالوں میں