خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 230 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 230

خطبات مسرور جلد 11 230 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 اپریل 2013ء دینے والے کا تقویٰ کا معیار بلند ہو گا تبھی یہ حالت ہو گی۔پس جماعت کے ہر فرد کو اپنے گریبان میں جھانک کر اپنے معیاروں کو بلند کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔عہد یدار جیسا کہ میں نے کہا، افراد جماعت نے منتخب کرنے ہیں اور افراد جماعت میں سے منتخب ہونے ہیں، اس لئے وہ چند خوبیاں جو ہم میں سے ہر ایک میں بحیثیت مومن ہونی چاہئیں اور خاص طور پر عہد یداروں میں ہونی چاہئیں، اُن کا میں ذکر کر دیتا ہوں۔عہدوں کی پابندی کی بات ہے تو سب سے پہلے اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اگر جماعت میں عہدوں کی پابندی کا معیار بلند ہوگا تو عہد یداروں کا عہدوں کی پابندی کا معیار بھی بلند ہوگا۔بندوں کے حقوق میں سے جن کی ادائیگی میں کمزوری ہے، وہ اپنے معاہدوں کو پورا نہ کرنا ہے یعنی معاہدوں کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے حقوق ادا نہیں ہوتے۔اس کے لئے اگر اپنے پر سختی بھی برداشت کرنی پڑے تو برداشت کر لینی چاہئے۔یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا ہے اور حق ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔بہت سے کاروباری معاہدے ہوتے ہیں، اعتراض کرنے والے دوسرے پر تو فوراً اعتراض کر دیتے ہیں لیکن اپنے معاملات صاف نہیں ہوتے جس سے معاشرے میں فساد کے حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔اسلام ایک امن پسند دین ہے، ایک امن پسند مذہب ہے۔جتنازیادہ اس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے، اتنا ہی مسلمانوں میں بدعہدی اور فتنہ وفساد کی مثالیں پائی جاتی ہیں۔اور معاشرے میں رہنے کی وجہ سے اس کا اثر ہم احمدیوں پر بھی پڑ رہا ہے۔عہد صرف باہر کے کاروباری عہد نہیں ہیں، بلکہ ہر جگہ کے عہد ہیں، باہر بھی اور اندر بھی۔گھر یلو سطح پر بھی۔میاں بیوی کی شادی کا بندھن ہے، یہ بھی ایک معاہدہ ہے۔اس میں ایک دوسرے کو دھوکہ دیا جاتا ہے۔بعض لوگ جماعتی کا موں کو بڑے احسن رنگ میں انجام دیتے ہیں، کئی دفعہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، لیکن گھروں کے حقوق ادا نہیں کر رہے ہوتے۔یہ بھی اپنے عہدوں سے روگردانی ہے، یا اُن کی پابندی سے روگردانی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں قابل گرفت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا - ( بنی اسرائیل : 35 ) یعنی ہر عہد کی نسبت یقیناً ایک نہ ایک دن جواب طلبی ہوگی۔اللہ تعالیٰ نے نیک آدمی کی یہ نشانی بتائی ہے، صحیح مومن کی یہ نشانی بتائی ہے کہ وَالْمُؤْفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا (البقرة : 178 ) جب وہ عہد کریں تو اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں۔پس ہر احمدی نے اگر اپنے نیک عہد یدار منتخب کرنے ہیں تو ہر سطح پر اپنے بھی جائزے لینے ہوں گے کہ کس حد تک وہ خود اپنے عہدوں کو پورا کرنے والے ہیں۔کس حد تک وہ خود اپنی امانتوں کا حق ادا کرنے والے ہیں۔