خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 106 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 106

خطبات مسرور جلد 11 106 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 فروری 2013ء اتنے میں اور چند آدمی حضرت خلیفہ ثانی کو گھیرے میں لئے جارہے ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے مجھے آواز دی۔میں نے اس ہجوم کو بھی منتشر کیا اور ایک اور شخص کو جو کہ فتنہ کا بانی مبانی تھا، اُسے تلوار سے قتل کرنا چاہا مگر وہ میری طرف منہ کر کے پیچھے کی طرف ہٹتا گیا اور میں بھی اُسے آگے رکھ کر اُس کی طرف بڑھتا گیا یہاں تک کہ میں نے اس کوگھیر کرقتل کر دیا اور پھر جب میں اندر واپس آیا تو حضرت ام المومنین صاحبہ اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے مجھے دودھ پلایا۔ایک شخص مجھے دودھ پیتے دیکھ کر کہنے لگا کہ تم دودھ کیوں پیتے ہو؟ میں نے کہا کیا دودھ برا ہے۔دودھ پینا تو بہت اچھا ہے۔پھر میری آنکھ کھل گئی اور میں نے یہ خواب بذریعہ خط حضرت خلیفۃ اسیح الثانی کی خدمت بابرکت میں ارسال کیا۔حضور نے 05/03/30 کو پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کے ذریعہ جواب تحریر فرمایا کہ خواب اچھی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ سے کوئی سلسلہ کی خدمت لے لے گا۔اس کے بعد ا پریل / 30 ء کو پھر میں نے حضور کی خدمت میں ایک خط لکھا کہ بحضور سید نا وامامنا حضرت امیرالمؤمنین۔السلام علیکم۔( یہ شعر لکھا ہے اُس پر کہ ) ہر بلا کیں قوم راحق داده است زیر آن گنج کرم بنهاده است مستریوں کی فتنہ انگیزی اور پولیس کی ناجائز کارروائی سن کر دل قابو سے نکلا جا رہا ہے۔تھوڑا ہی عرصہ ہوا تو میں نے خواب میں شریروں کا ایک گروہ حضور کے گرد جمع دیکھا جسے میں نے بذریعہ تلوار کے منتشر کیا اور ان کے سرغنہ کو قتل کیا۔یہ خواب میں نے حضور کی خدمت میں تحریر کیا تھا۔جس پر حضور نے رقم فرمایا تھا کہ خدا تعالیٰ تم سے کوئی خدمت دین لے لے گا“۔سو میں اس خدمت کی ادائیگی کے لئے نہایت بے تابی سے چشم براہ ہوں لیکن میں نہیں جانتا کہ یہ کس طرح ادا ہوگی۔سوائے دعا اور خدا کی استمداد کے اور کوئی ذریعہ نہیں پاتا۔حضور سے التجا ہے کہ میرے لئے دعا فرمائی جائے کہ خدا میری کمزوریوں سے درگز رفرما کر میری دعاؤں کو قبول فرمائے اور مجھے خدمت دین کے حصول کا عملی موقع عطا کرے۔والسلام امیر محمد خان، سب انسپکٹر اشتمال اراضیات ضلع جالندھر۔کہتے ہیں کہ الحمدللہ الحمد للہ کہ سات سال کے بعد میری یہ خواب حرف بحرف پوری ہوئی یعنی 1924ء میں میں نے ایک اعلیٰ افسر کے ایماء پر ملازمت سے استعفیٰ دیا جو بعد میں اُس کی دھوکہ دہی ثابت ہوئی کیونکہ اُس نے بعض وجوہات کی بناء پر مجھے کہا تھا کہ میں بھی ملازمت چھوڑ رہا ہوں، تم بھی چھوڑ دو۔لیکن پتہ لگا کہ اُس نے خود اب تک ملازمت نہیں چھوڑی اور اشتمال اراضیات میں مجھے 90 روپے ماہوار تنخواہ ملتی تھی اور اب قادیان میں صرف 20 روپے لے رہا ہوں جیسا کہ خواب میں بتلایا گیا تھا اور ملازمت بھی انجمن کی نہیں بلکہ تحریک جدید کی ہے جو خاص حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی