خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 3
خطبات مسرور جلد 11 3 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 4 جنوری 2013ء کہ دیکھو ہم نے فلاں مسجد کے لئے یا عوام کی فلاح و بہبود کے فلاں کام کے لئے اتنا رو پی دیا ہے۔پھر جن کمیٹیوں کو دیتے ہیں، جن تنظیموں کو دیتے ہیں، اُن میں بعض دفعہ اس وجہ سے لڑائی ہو جاتی ہے کہ ہم نے اتنا پیسہ دیا تھا، اس کا حساب دو یا اس طرح خرچ نہیں ہوا، اسے صحیح طرح خرچ نہیں کیا گیا۔یہ بھی خدا تعالیٰ کا جماعت پر فضل ہے کہ جماعت احمدیہ کے پیسے میں اللہ تعالیٰ نے جو برکت رکھی ہے وہ اُن کے ہاں نظر نہیں آتی۔ابھی گزشتہ دنوں جب میں نے جامعہ احمد یہ جرمنی کا افتتاح کیا تو وہاں ایک اخباری نمائندے نے جو مسلمان تھے بلکہ پاکستانی اخبار کے نمائندے تھے، مجھ سے پوچھا کہ اس پراجیکٹ کے لئے حکومت سے بھی یا کہیں سے کوئی مدد لی گئی ہے؟ تو میں نے اُسے کہا کہ ہمارے سب کام اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے افراد کے چندوں سے ہوتے ہیں اور یہ عمارت بھی احباب جماعت کے چندوں سے ہی بنی ہے۔لیکن جو خرچ اس پر ہوا ہے، اگر کوئی حکومتی ادارہ یہ اتنی بڑی عمارت بناتا یا کوئی اور ادارہ بھی اس عمارت کے لئے خرچ کرتا تو اس سے بہت زیادہ خرچ ہوتا۔اللہ تعالیٰ نے جماعتی پیسہ میں برکت بھی رکھی ہوئی ہے اور تھوڑے میں بہت سے کام ہو جاتے ہیں۔پس جس نیک نیت سے احباب جماعت چندہ دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ اتنی ہی اس میں برکت بھی رکھتا ہے۔یہاں اس بات کی طرف بھی اشارہ کر دوں یا بتا دوں کہ گو چندہ دے کر افراد جماعت نہ تو پوچھتے ہیں، نہ ہی احسان جتاتے ہیں، لیکن خرچ کرنے والے احباب جو جماعتی انتظامیہ ہے، کو بہت زیادہ محتاط ہونا چاہئے۔خرچ بڑا پھونک پھونک کر کرنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کے طفیل ہی ہم یہ کشائش دیکھ رہے ہیں۔اور انشاء اللہ تعالیٰ یہ کشائش اور ہمارے پیسے میں برکت کے نظارے ہم دیکھتے رہیں گے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس فکر کو بھی سامنے رکھنا چاہئے کہ جہاں تک پیسہ آنے کا سوال ہے اُس کی تو کوئی فکر نہیں۔( فکر ہے تو یہ کہ ) کہیں ان خرچ کرنے والوں کے دل دنیا داری کی لپیٹ میں نہ آجائیں اور جماعتی اموال کا درد نہ رہے۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔جماعتی اموال کے خرچ کرنے کا ایک طریقہ کار ہے۔مختلف جگہوں پر چیک ہوتے ہیں۔لیکن پھر بھی خرچ کرنے والوں کو جہاں اس طرف توجہ دینی چاہئے وہاں تو بہ واستغفار سے اللہ تعالیٰ کی مدد بھی لیتے رہنا چاہئے۔جب جماعت بڑھتی ہے، جماعت کے اموال میں وسعت پیدا ہوتی ہے تو جہاں مخالفین اپنی کوششوں میں تیزی پیدا کرتے ہیں ، وہاں منافقین کے ذریعے وہ جماعت میں رخنہ ڈالنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔گو ان کی کوششیں بے اثر ہوتی ہیں لیکن ہمیں ہمیشہ محتاط رہنے اور