خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 651 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 651

خطبات مسرور جلد 11 651 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 نومبر 2013ء میں نے بتایا کہ صبر کا ایک مطلب برائیوں سے بچنا بھی ہے، اس کے لئے تو بہ اور استغفار کی ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ : سچی تو بہ اُس وقت ہوتی ہے جب ان تین باتوں کا خیال رکھا جائے۔پہلی بات یہ کہ اُن تمام خیالات اور تصورات کو دل سے نکال دو جو دل کے فساد کا ذریعہ بن رہے ہیں، جو غلط کاموں کی طرف ابھارتے اور اُکساتے ہیں۔یعنی جو بھی برائی دل میں ہے یا جس برائی کا خیال آتا ہے اُس سے کراہت کا تصور پیدا کرو۔تمہیں کراہت آنی چاہئے۔دوسری بات یہ کہ برائی پر ندامت اور شرم کا اظہار کرو۔اپنے دل میں اتنی مرتبہ اُسے برا کہو کہ شرمندگی پیدا ہو جائے۔دوسری بات ندامت اور شرم کا اظہار ہے اور تیسری بات یہ کہ ایک پکا اور مصمم ارادہ کرو کہ یہ برائی میں نے دوبارہ نہیں کرنی۔ماخوذ از ملفوظات جلد اوّل صفحہ 87-88 - مطبوعہ ربوہ ) صبر میں یہی حالت پیدا کی جاتی ہے تبھی صبر صحیح صبر کہلا تا ہے۔پس اگر ہم نے اپنی یہ عادت کر لی اور اپنے صبر اور صلوۃ کے معیار حاصل کرنے کی بھر پور کوشش کی تو اللہ تعالیٰ کے غیر معمولی تائیدی نشان ظاہر ہوں گے۔انشاء اللہ تعالیٰ۔وہ نشانات جن کا اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وعدہ فرمایا ہے ہم بھی دیکھیں گے۔یہ تو نہیں ہو سکتا کہ نہ ہم برائیوں سے بچنے کی کوشش کر رہے ہوں ، نہ ہم نیکیوں پر قدم مار رہے ہوں ، نہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مشن کی روح کو سمجھ رہے ہوں ، نہ ہم اپنے ہر معاملے میں خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کر رہے ہوں ، نہ ہم مخلوق کے حق ادا کر رہے ہوں، نہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کی طرف توجہ دے رہے ہوں جس کی برکت سے ہم اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والے بن جاتے ہیں، نہ ہم نمازوں کا حق ادا کر رہے ہوں اور پھر بھی ہم یہ توقع رکھیں کہ دنیا کو ہم نے اسلام کے جھنڈے تلے لانا ہے۔ان مقاصد کو اور اغراض کو پورا کرنا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کی ہیں۔دنیا اسلام کے جھنڈے تلے آئے گی اور انشاء اللہ تعالیٰ ضرور آئے گی لیکن اگر ہم نے اپنے حق ادا نہ کئے اور اپنے صبر اور صلوۃ کو انتہا تک نہ پہنچایا تو پھر ہم اس فتح کے حصہ دار نہیں ہوسکیں گے۔پس یہ حق ادا کرنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔دنیا کو ہم یہی بتاتے ہیں کہ ایک دن ہم نے دنیا پر غالب آنا ہے۔اس دورے کے دوران بھی نیوزی لینڈ میں ایک جرنلسٹ نے مجھے سوال کیا کہ تم تھوڑے سے ہو، تمہیں یہاں مسجد کی کیا ضرورت ہے؟ پہلے ایک ہال موجود ہے۔تو میں نے اُسے یہی کہا تھا کہ آج تھوڑے ہیں