خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 74 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 74

خطبات مسرور جلد 11 74 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم فروری 2013ء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے حاصل ہوا۔اگر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت نہ ہوتا اور آپ کی پیروی نہ کرتا تو اگر دنیا کے تمام پہاڑوں کے برابر میرے اعمال ہوتے تو پھر بھی میں کبھی یہ شرف مکالمہ مخاطبہ ہرگز نہ پاتا۔یعنی اللہ تعالیٰ سے کلام کرنا اور اللہ تعالیٰ کا آپ سے بولنا، یہ مقام کبھی نہ ملتا ، کیونکہ اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوّتیں بند ہیں۔شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے مگر وہی جو پہلے امتی ہو۔“ (تجلیات الہیہ۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 412-411) پھر اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ : الہی تیرا ہزار ہزار شکر کہ تو نے ہم کو اپنی پہچان کا آپ راہ بتا یا۔اور اپنی پاک کتابوں کو نازل کر کے فکر اور عقل کی غلطیوں اور خطاؤں سے بچایا اور درود اور سلام حضرت سید الرسل محمد مصطفی ، ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کی آل و اصحاب پر کہ جس سے خدا نے ایک عالم گم گشتہ کو سیدھی راہ پر چلا یا۔وہ مربی اور نفع رسان کہ جو بھولی ہوئی خلقت کو پھر راہ راست پر لایا۔وہ حسن اور صاحب احسان کہ جس نے لوگوں کو شرک اور بتوں کی بلا سے چھوڑایا۔وہ نور اور نور افشان کہ جس نے توحید کی روشنی کو دنیا میں پھیلایا۔وہ حکیم اور معالج زمان کہ جس نے بگڑے ہوئے دلوں کا راستی پر قدم جمایا۔وہ کریم اور کرامت نشان کہ جس نے مردوں کو زندگی کا پانی پلایا۔وہ رحیم اور مہربان کہ جس نے اُمت کے لئے غم کھایا اور در داٹھایا۔وہ شجاع اور پہلوان جو ہم کو موت کے منہ سے نکال کر لایا۔وہ حلیم اور بے نفس انسان کہ جس نے بندگی میں سر جھکایا اور اپنی ہستی کو خاک میں ملایا۔وہ کامل موحد اور بحر عرفان کہ جس کو صرف خدا کا جلال بھایا اور غیر کو اپنی نظر سے گرایا۔وہ معجزہ قدرت رحمن کہ جو اُقی ہو کر سب پر علوم حقانی میں غالب آیا اور ہر یک قوم کی۔غلطیوں اور خطاؤں کو ملزم ٹھہرایا۔(براہین احمدیہ ہر چہار حص۔روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 17) اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا ایک مومن مسلمان کے لئے لازمی امر ہے جس کے بغیر وہ محبت کے معیار پورے نہیں ہوتے اور نہ ہو سکتے ہیں جو ایک مومن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونی چاہئے۔نہ ہی کوئی دعا قبولیت کا درجہ حاصل کرتی ہے یا کر سکتی ہے جس میں درود شامل نہ ہو۔لیکن یہ بھی ہمیں یادرکھنا چاہئے کہ ہمارے درود کی بھی اصل غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہماری محبت ہونی چاہئے اور اس کو ہر چیز پر حاوی ہونا چاہئے۔درود شریف کی اس غرض کو بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: