خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 73
خطبات مسرور جلد 11 73 خطبه جمعه فرموده مورخہ یکم فروری 2013ء ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : اُس قادر اور سچے اور کامل خدا کو ہماری روح اور ہمارا ذرہ ذرہ وجود کا سجدہ کرتا ہے جس کے ہاتھ سے ہر ایک روح اور ہر ایک ذرہ مخلوقات کا مع اپنی تمام قومی کے ظہور پذیر ہوا اور جس کے وجود سے ہر ایک وجود قائم ہے۔اور کوئی چیز نہ اُس کے علم سے باہر ہے اور نہ اُس کے تصرف سے ، نہ اُس کی خلق سے۔اور ہزاروں درود اور سلام اور رحمتیں اور برکتیں اُس پاک نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوں جس کے ذریعہ سے ہم نے وہ زندہ خدا پایا جو آپ کلام کر کے اپنی ہستی کا آپ ہمیں نشان دیتا ہے اور آپ فوق العادت نشان دکھلا کر اپنی قدیم اور کامل طاقتوں اور قوتوں کا ہم کو چمکنے والا چہرہ دکھاتا ہے۔سو ہم نے ایسے رسول کو پایا جس نے خدا کو ہمیں دکھلایا اور ایسے خدا کو پایا جس نے اپنی کامل طاقت سے ہر ایک چیز کو بنایا۔اُس کی قدرت کیا ہی عظمت اپنے اندر رکھتی ہے جس کے بغیر کسی چیز نے نقش وجود نہیں پکڑا اور جس کے سہارے کے بغیر کوئی چیز قائم نہیں رہ سکتی۔وہ ہمارا سچا خدا بے شمار برکتوں والا ہے اور بے شمار قدرتوں والا اور بیشمار حسن والا احسان والا۔اُس کے سوا کوئی اور خدا نہیں۔“ ( نیم دعوت۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 363 ) پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ مجھے جو کچھ بھی ملا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ملا ہے۔تم لوگ کہتے ہو کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو گراتا ہوں۔مجھے تو آپ کے در سے ہی ملا ہے جو کچھ ملا ہے۔یہ مین الرحمن کی عربی عبارت ہے، ترجمہ پڑھتا ہوں۔فرماتے ہیں کہ: ”یہ میری کامیابی میرے رب کی طرف سے ہے۔پس میں اس کی تعریف کرتا ہوں اور نبی عربی 66 پر درود بھیجتا ہوں۔اسی سے تمام برکتیں نازل ہوئیں اور اسی سے سب تانا بانا ہے۔اسی نے میرے لئے اصل اور فرع کو میسر کیا اور اس نے میرے بیج اور کھیت کو اُ گایا۔اور وہ بہتر ہے سب اگانے والوں سے۔“ من الرحمن - روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 187-186) مجھے جو کچھ ملا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ملا، اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے پھر فرماتے ہیں کہ : یں اُسی کی (یعنی اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جیسا کہ اُس نے ابراہیم سے مکالمہ مخاطبہ کیا اور پھر اسحاق سے اور اسماعیل سے اور یعقوب سے اور یوسف سے اور موسیٰ سے اور مسیح ابن مریم سے اور سب کے بعد ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہمکلام ہوا کہ آپ پر سب سے زیادہ روشن اور پاک وحی نازل کی ، ایسا ہی اُس نے مجھے بھی اپنے مکالمہ مخاطبہ کا شرف بخشا۔مگر یہ شرف مجھے محض