خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 72
خطبات مسرور جلد 11 72 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم فروری 2013ء با تفاق جميع كتب الہیہ ثابت ہے کہ انبیاء و اولیاء مرنے کے بعد پھر زندہ ہو جایا کرتے ہیں۔یعنی ایک قسم کی زندگی انہیں عطا کی جاتی ہے جو دوسروں کو نہیں عطا کی جاتی۔اسی طرف وہ حدیث اشارہ کرتی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ مجھے قبر میں میت رہنے نہیں دے گا اور (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 225) زندہ کر کے اپنی طرف اُٹھالے گا۔“ یہ ازالہ اوہام کا حوالہ تھا جو میں نے پڑھا تھا۔اسی کی تشریح آگے فرما رہے ہیں۔اس بات کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : و یعنی میں اس مدت کے اندراندر زندہ ہو کر آسمان کی طرف اُٹھایا جاؤں گا“۔(اب یہ آپ فرمارہے ہیں لیکن کوئی مسلمان نہیں کہتا کہ آپ جسم کے ساتھ زندہ آسمان پر موجود ہیں)۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اب دیکھنا چاہئے کہ ہمارے سید و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبر میں زندہ ہو جانے اور پھر آسمان کی طرف اٹھائے جانے کی نسبت مسیح کے اُٹھائے جانے میں کونسی زیادتی ہے۔بلکہ سچ تو یہ ہے کہ عیسی بن مریم کی حیات حضرت موسیٰ کی حیات سے بھی درجہ میں کمتر ہے۔اور اعتقاد صحیح جس پر اتفاق سلف صالح کا ہے اور نیز معراج کی حدیث بھی اس کی شاہد ناطق ہے، یہی ہے کہ انبیاء بحیات جسمی مشابہ بحیات جسمی دنیاوی زندہ ہیں۔( یعنی اس کی اس طرح ، اس لحاظ سے مشابہت ہے لیکن عملاً اس طرح نہیں ہوتا )۔پھر فرمایا اور شہداء کی نسبت اُن کی زندگی اکمل واقومی ہے“۔(اب شہداء کے بارے میں فرماتے ہیں اُن کو مردہ نہ کہو، وہ زندہ ہیں۔لیکن انبیاء اُن سے بہت بڑھ کر ہیں ) اور سب سے زیادہ اکمل واقویٰ واشرف زندگی ہمارے سید و مولی فداء له نفسى وأبى وأمّى صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔حضرت مسیح تو صرف دوسرے آسمان میں اپنے خالہ زاد بھائی اور نیز اپنے مرشد حضرت یحیی کے ساتھ مقیم ہیں لیکن ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے اعلیٰ مرتبہ آسمان میں جس سے بڑھ کر اور کوئی مرتبہ نہیں تشریف فرما ہیں۔عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهى بِالرَّفِيقِ الْأخلی اور امت کے سلام وصلوات برابر آنحضرت کے حضور میں پہنچائے جاتے ہیں۔اللّهُمَّ صَلِّ عَلى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ أَكثر مَا صَلَّيْتَ عَلَى أَحَدٍ مِّنْ أَنْبِيَائِكَ وَبَارِك وَسَلّم “ 66 (ازالہ اوہام - روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 225 226 حاشیہ ) یہ بھی ازالہ اوہام کا حوالہ تھا جو میں نے ابھی پڑھا ہے۔پھر اس بات کا ذکر فرماتے ہوئے کہ ہم نے خدا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے پایا