خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 70 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 70

خطبات مسرور جلد 11 70 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم فروری 2013ء تھی۔( یہ آپ کی دعائیں تھیں جو سینے سے ابل رہی تھیں کہ دنیا ہدایت پا جائے۔) فرمایا ” ہر ایک قوم توحید سے دور اور مہجور ہوگئی مگر اسلام میں چشمہ تو حید جاری رہا۔یہ تمام برکتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کا نتیجہ تھا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء: 4) یعنی کیا تو اس غم میں اپنے تئیں ہلاک کر دے گا جو یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔پس پہلے نبیوں کی اُمت میں جو اس درجہ کی صلاح و تقویٰ پیدا نہ ہوئی اُس کی یہی وجہ تھی کہ اس درجہ کی توجہ اور دلسوزی امت کے لئے اُن نبیوں میں نہیں تھی۔افسوس کہ حال نے نادان مسلمانوں نے اپنے اس نبی مکرم کا کچھ قدر نہیں کیا اور ہر ایک بات میں ٹھوکر کھائی۔وہ ختم نبوت کے ایسے معنی کرتے ہیں جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو نکلتی ہے، نہ تعریف۔گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نفس پاک میں افاضہ اور تکمیل نفوس کے لئے کوئی قوت نہ تھی۔اور وہ صرف خشک شریعت کو سکھلانے آئے تھے“۔( یعنی کہ مسلمان یہ سمجھتے ہیں، یعنی اپنے عمل سے یہ ظاہر کرتے ہیں) حالانکہ اللہ تعالیٰ اس اُمت کو یہ دعا سکھلاتا ہے اهْدِنَا القيراط الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِم (الفاتحةۃ : 6-7)۔پس اگر یہ امت پہلے نبیوں کی وارث نہیں اور اس انعام میں سے ان کو کچھ حصہ نہیں تو یہ دعا کیوں سکھلائی گئی۔“ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 101 تا 104۔حاشیہ ) یہ حوالہ بھی حقیقۃ الوحی کا ہے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اقتداری معجزات کا ذکر فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : اس درجہ لقا میں بعض اوقات انسان سے ایسے امور صادر ہوتے ہیں کہ جو بشریت کی طاقتوں سے بڑھے ہوئے ہوتے ہیں“۔( اور ایسا مقام پہنچ جاتا ہے جو ایسے معجزات بھی ظہور پذیر ہوتے ہیں کہ بظاہر ممکن نہیں بلکہ بشری طاقتوں سے بہت بڑھے ہوئے ہوتے ہیں اور انسانی طاقتوں سے باہر ہوتے ہیں ) فرمایا کہ ”جو بشریت کی طاقتوں سے بڑھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور الہی طاقت کا رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں جیسے ہمارے سید و مولیٰ سید الرسل حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر میں ایک سنگریزوں کی مٹھی کفار پر چلائی۔اور وہ مٹھی کسی دعا کے ذریعہ سے نہیں بلکہ خود اپنی روحانی طاقت - چلائی۔مگر اس مٹھی نے خدائی طاقت دکھلائی اور مخالف کی فوج پر ایسا خارق عادت اس کا اثر پڑا کہ کوئی ان میں سے ایسانہ رہا کہ جس کی آنکھ پر اس کا اثر نہ پہنچا ہو۔( بیشک قانونِ قدرت کے تحت اُس مٹھی کے پیچھے