خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 703 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 703

خطبات مسرور جلد 11 703 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 دسمبر 2013ء مجبوراً ان عورتوں نے بھی جو پردہ کا کہنے والی تھیں، جن کو ساری عمر پر دے کی عادت تھی اس خوف کی وجہ سے کہ جرم ہے، خود بھی پردہ چھوڑ دیا۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہاں کوئی ایسا قانون نہیں ہے، نہ جرم ہے۔کوئی پابندی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اس طرف توجہ دیتا ہے۔صرف فیشن کی خاطر چند نو جوان عورتوں اور بچیوں نے پردے چھوڑ دیئے ہیں۔پاکستان سے شادی ہو کر وہاں آنے والی ایک بچی نے مجھے لکھا کہ مجھے بھی زبر دستی پردہ چھڑوا دیا گیا تھا۔یا ماحول کی وجہ سے میں بھی کچھ اس دام میں آ گئی اور پردہ چھوڑ دیا۔اب میں جب وہاں دورے پر گیا ہوں تو اُس نے لکھا کہ آپ نے جلسہ میں جو تقریر عورتوں میں کی اور پردے کے بارے میں کہا تو اُس وقت میں نے برقع پہنا ہوا تھا تو اُس وقت سے میں نے برقع پہنے رکھا ہے اور اب میں اُس پر قائم ہوں اور کوشش بھی کر رہی ہوں اور دعا بھی کر رہی ہوں کہ اس پر قائم رہوں۔اُس نے دعا کے لئے بھی لکھا۔تو پر دے اس لئے چھٹ رہے ہیں کہ اس حکم کی جو قرآنی حکم ہے، بار بار ذہن میں جگالی نہیں کی جاتی۔نہ ہی گھروں میں اس کے ذکر ہوتے ہیں۔پس عملی اصلاح کے لئے بار بار برائی کا ذکر ہونا اور نیکی کا ذکر ہوناضروری ہے۔ساتواں سبب اعمال کی اصلاح میں روک کا یہ ہے کہ انسانی تعلقات اور رویے جو ہیں وہ حاوی ہو جاتے ہیں اور خشیت اللہ میں کمی آجاتی ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 383 خطبہ جمعہ 12 جون 1936ء) بسا اوقات لالچ ، دوستانہ تعلقات، رشتے داری ،لڑائی ، بغض اور کینے ان اعمال کے اچھے حصوں کو ظاہر نہیں ہونے دیتے۔مثلاً امانت کی جو میں نے مثال دی ہے، دوبارہ دیتا ہوں کہ انسان امانت کو اس نقطہ نظر سے نہیں دیکھتا کہ خدا تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہوا ہے، بلکہ اس نقطہ نگاہ سے دیکھتا ہے کہ اس خاص موقع پر امانت کی وجہ سے اُس کے دوستوں یا دشمنوں پر کیا اثر پڑتا ہے۔اسی طرح وہ سچ کو اس نقطہ سے نہیں دیکھتا کہ سچ بولنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے بلکہ اس نقطہ نگاہ سے دیکھتا ہے کہ آیا اُسے یا اُس کے دوستوں عزیزوں کو اس سچ بولنے سے کوئی نقصان تو نہیں پہنچے گا ؟ ایک انسان دوسرے انسان کے خلاف گواہی اس لئے دے دیتا ہے کہ فلاں وقت میں اُس نے مجھے نقصان پہنچایا تھا۔پس آج مجھے موقع ملا ہے کہ میں بھی بدلہ لے لوں اور اُس کے خلاف گواہی دے دوں۔تو اعمال میں کمزوری اس وجہ سے ہوتی ہے کہ خشیت اللہ کا خانہ خالی ہو جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے ہوئے خدا تعالیٰ کے اس حکم کو سامنے رکھنا چاہئے کہ اپنے خلاف یا اپنے پیاروں اور والدین کے خلاف بھی تمہیں گواہی دینی پڑے تو دو اور سچائی کو ہمیشہ مقدم رکھو۔