خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 702
خطبات مسرور جلد 11 702 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 دسمبر 2013ء میرے پاس آئیں۔پس ایک طرف تو نیک اعمال کا خیال رکھنے والے نماز کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف پیسہ کمانے کا سوچنے والے اس سے بے پرواہ اپنے دنیاوی فائدے دیکھنے کے لئے منافع بنانے کی سوچ رہے ہوتے ہیں۔بجائے اس کے کہ ہر کام کرنے سے پہلے نیک اعمال کی اصلاح کو سوچیں، اُن کی نظر دنیاوی فائدے کی طرف ہوتی ہے اور وہ اُس کے متعلق سوچتے ہیں۔ربوہ کے دکانداروں کے بارے میں پھر میں کہوں گا کہ ایک دفعہ ایک شکایت آئی تھی کہ نماز کے وقت میں دکانیں بند نہیں کرتے۔تو اب بہر حال اُن کی رپورٹ آئی ہے کہ سب نے یہی کہا ہے کہ اب ہم انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ کرتے رہیں گے۔خدا کرے کہ یہ لوگ اس پر عمل کرنے والے بھی ہوں۔اسی طرح قادیان کے دکاندار ہیں اور آجکل تو قادیان میں جلسے کی وجہ سے گہما گہمی ہے، انہیں بھی اس کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ گا ہک باہر سے آئے ہوئے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اپنے فرائض جو ہیں اُن کو بھول جائیں۔وہاں اُن کو نمازوں کے اوقات میں اپنی دکا نہیں یا اپنے سٹال جو ہیں وہ بہر حال بند کرنے چاہئیں اور دنیا میں ہر جگہ ہر احمدی کو یہ خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ جوفرائض ہیں، اُن کی ادائیگی کے لئے اُن کو بہت توجہ کی ضرورت ہے۔اعمال پر بار بار توجہ دینے کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی تیز رفتار گھوڑے پر سوار چلا جا رہا ہو لیکن بے احتیاطی سے اگر بیٹھے گا تو گھوڑا اُسے نیچے گرا دے گا۔پس مومن کو بھی ہر وقت اپنے اعمال پر نگاہ رکھنی پڑے گی اور رکھنی چاہئے۔لمحہ بھر کے لئے اگر بے احتیاطی ہو جائے تو مومن کا جو معیار ہے اُس سے وہ گر جائے گا اور اس کے اعمال کی اصلاح بھی نہیں ہوگی۔پس ہر معاملے میں ہر وقت نظر رکھ کر ہی عملی اصلاح کی طرف ہر ایک جو ہے صحیح قدم اُٹھا سکتا ہے۔برائیوں کی طرف ایک مرتبہ انسان جھک گیا تو پھر وہ اُس میں ڈوب جاتا ہے۔گویا برائیوں سے بچنے کے لئے ہر کام پر نظر رکھ کر انسان ایک حجاب میں آ جاتا ہے اور جب یہ حجاب ختم ہو جائے تو ایک کے بعد دوسری کمزوری اُس پر غلبہ پالیتی ہے۔عورتوں کے لئے بھی میں ایک مثال دوں گا۔پردہ اور حیا کی حالت ہے۔اگر ایک دفعہ یہ ختم ہو جائے تو پھر بات بہت آگے بڑھ جاتی ہے۔آسٹریلیا میں مجھے پتہ چلا ہے کہ بعض بڑی عمر کی عورتوں نے جو پاکستان سے وہاں آسٹریلیا میں اپنے بچوں کے پاس نئی نئی گئی تھیں، اپنی بچیوں کو یہ دیکھ کر کہ پردہ نہیں کرتیں اُنہیں پردے کا کہا کہ کم از کم حیادار لباس پہنو، سکارف لو تو اُن کی لڑکیوں میں سے بعض جو ایسی ہیں کہ پردہ نہ کرنے والی ہیں، انہوں نے یہ کہا کہ یہاں پردہ کرنا بہت بڑا جرم ہے اور آپ بھی چھوڑ دیں تو