خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 701
خطبات مسرور جلد 11 701 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 دسمبر 2013ء یا نہیں کہ قرآن کریم کے جو سات سو حکم ہیں اُن پر عمل کرو۔کہیں میں ان سے دُور تو نہیں جا رہا۔مثلاً دیانت سے کام کرنا ایک اہم حکم ہے۔ایک دکاندار کو بھی یہ حکم ہے، ایک کام کرنے والے مزدور کو بھی یہ حکم ہے اور اپنے دائرے میں ہر ایک کو یہ حکم ہے کہ دیانتدار بنو۔ایک دکاندار ہے،اُس کے سامنے دیانت سے چلنے کا حکم کئی بار آتا ہے۔ایک انجان گاہک آتا ہے تو اُسے وہ یا کم معیار کی چیز دیتا ہے، یا قیمت زیادہ وصول کرتا ہے، یا اُس مقررہ قیمت پر کم وزن کی چیز دیتا ہے۔یہ بیماری جیسا کہ پہلے بھی میں نے کہا ، ان ملکوں میں تو کم ہے لیکن غریب ممالک میں بہت زیادہ ہے۔پس گاہک کو چیز دیتے ہوئے کوئی تو یہ سوچتا ہے کہ اس گاہک کی کم علمی کی وجہ سے میں فائدہ اُٹھاؤں۔کوئی کہتا ہے کہ اگر میں وزن میں اتنی کمی ہر گاہک کے سودے میں کروں تو شام تک میں اتنا بچالوں گا۔بعض دفعہ گاہک کی سخت ضرورت اور مجبوری دیکھ کر اصل منافع سے کئی گنا زیادہ منافع کما لیا جاتا ہے۔یہ تو ویسے بھی تجارت کے جو اخلاق ہیں اُن کے خلاف ہے لیکن اسلام تو اس کو سختی سے منع کرتا ہے۔منافع کے ضمن میں یہ بھی کہوں گا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ربوہ جو آباد ہوا ہے تو وہاں کے دکانداروں کو یہ نصیحت کی تھی کہ تم منافع کم لوتو تمہارے پاس گا ہک زیادہ آئیں گے۔لیکن میرے پاس بعض شکایات ایسی آرہی ہیں یا آتی رہتی ہیں کہ ربوہ میں دوکاندار اتنا منافع کمانے لگ گئے ہیں کہ لوگ چنیوٹ جا کر سودا خرید نے لگ گئے ہیں۔یعنی اپنوں کے بجائے غیروں کے پاس احمدیوں کا روپیہ جانے لگ گیا ہے اور اس کے ذمہ دار ربوہ کے احمدی دکاندار ہیں۔پس اس لحاظ سے بھی ہمارے احمدی دکاندار سوچیں اور اپنی اصلاح کی کوشش کریں۔یہ جہاں بھی ہوں ،صرف ربوہ کی بات نہیں ہے۔جہاں بھی دکاندار ہو، ایک احمدی دکاندار کا معیار ہمیشہ اچھا ہونا چاہئے ، اُن کا وزن پورا ہونا چاہئے، کسی چیز میں نقص کی صورت میں گاہک کے علم میں وہ نقص لا نا ضروری ہونا چاہئے۔منافع مناسب اور کم ہونا چاہئے۔اس سے انشاء اللہ تعالیٰ تجارت میں برکت پڑتی ہے، کمی نہیں آتی۔اسی طرح ہر میدان کے احمدی کو اپنی دیانت کا حسن ظاہر کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے ہر وقت اس حکم کی جگالی کرنے کی ضرورت ہے جو ابھی پڑھا ہے، تبھی عملی اصلاح ممکن ہوگی۔ہر وقت دہراتے رہنا پڑے گا کہ میری عملی اصلاح کے لئے میں نے یہ یہ کام کرنے ہیں۔اسی طرح دوسری برائیاں ہیں، مثلاً جھوٹ ہے۔ہر بات کہتے وقت یہ خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ میری بات میں کوئی غلط بیانی نہ ہو۔پھر اس کی دکانداروں کی لا پرواہی کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ ایک دکاندار نماز کا وقت آتا ہے تو نماز کے لئے چلا جاتا ہے۔دوسرا کہتا ہے کہ میں دکان کھلی رکھوں تا کہ اس عرصے میں جتنے گا ہک آئیں وہ