خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 693 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 693

خطبات مسرور جلد 11 693 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 دسمبر 2013ء دیئے اور بتایا کہ اس کی 28 اکتوبر 2013 ء کو وفات ہو گئی ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ان کی لاش بھی ان کے والد صاحب کو نہیں دی گئی۔غالباً یہی امکان ہے کہ وہاں اُن کو ٹارچر دیا گیا جس کی وجہ سے اُن کی وفات ہوئی۔خالد البراقی صاحب کی نیکی ، تقومی محسن خلق اور دینی تعلیمات کی پابندی کی گواہی وہاں سے بہت سارے احمدیوں اور غیر احمدیوں نے دی ہے۔تلاوت قرآنِ کریم کے وقت ان کی آواز غیر معمولی اچھی ہوتی تھی۔بہت نرم دل اور لوگوں سے ہمدردی رکھنے والے اور ہر مفوضہ کام کو نہایت خوشدلی کے ساتھ انجام دینے والے۔تعاون، اخلاص اور نظام جماعت اور خلافت سے محبت ان کے خصائل میں شامل تھیں۔اپنے وطن اور تمام لوگوں سے محبت رکھنے والے وجود تھے۔ایک مقامی جماعت کے صدر بھی رہے۔اس وقت سیکرٹری تعلیم القرآن اور وقف عارضی کی خدمات بجالا رہے تھے۔موصی تھے۔باقاعدہ چندوں کی ادائیگی کرنے والے تھے۔ان کی بیوی بھی احمدی ہیں اور تین بچے ہیں۔بیٹی شروب اور بیٹا احمد، دونوں کی عمر چھ سال سے کم ہے اور چھوٹا بچہ حسام الدین جوان کی گرفتاری سے چند ہفتے قبل پیدا ہوا تھا، وقف نو کی تحریک میں شامل ہے۔اپنی فیس بک پر گرفتاری سے پہلے خالد البراقی صاحب نے یہ لکھا تھا کہ : وطن کی محبت جزوایمان ہے۔یارب ہمارے ملک کی حفاظت فرما اور اُسے تمام مصائب سے رہائی عطا فرما اور اُسے پہلے سے زیادہ مضبوط اور زیادہ خوبصورت بنا اور اس کے اہل کو اپنا زیادہ مقرب بنالے۔خدایا! اس ملک کے باسیوں کے دل ایک دوسرے کے قریب کر دے۔انہیں آپس میں محبت کرنے والا بنا دے۔اے خدایا! تو ہمیشہ کے لئے امن اور سلامتی اور خیر کے پھیلانے کے لئے اس ملک کے نیک لوگوں کی مدد فرما۔“ اللہ کرے یہ دعا اس کے ملک کے لئے پوری ہو اور تمام امتِ مسلمہ کے لئے بھی پوری ہو تا کہ وہاں کے فساد ختم ہوں۔طاہر ندیم صاحب کہتے ہیں خالد البراقی صاحب کا اکثر ای میل سے رابطہ رہتا تھا۔شام میں قیام کے دوران ہمارا ان سے تعارف ہوا۔یہ نوجوان تواضع اور خاکساری کی بڑی مثال تھے۔نہایت سادہ، نیک، ہنس مکھ۔دمشق میں جماعت کے ہی ایک مکان میں رہتے تھے جسے بطور مرکز استعمال کیا جاتا تھا۔اُنہیں علم کی اس قدر پیاس تھی کہ کہتے ہیں اکثر اپنے ایک کزن کے ساتھ ہمارے پاس آ جایا کرتے تھے۔علمی موضوعات پر باتیں ہوتی تھیں۔جو بھی کوئی جماعتی کتاب ملتی ، بڑی محبت اور تڑپ کے ساتھ اُس کا مطالعہ کرتے۔جماعت کی پرانی لائبریری میں سے بعض عربی کتب اور رسالہ البشری کے قدیم شماروں میں