خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 689
خطبات مسرور جلد 11 689 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 دسمبر 2013ء پاکیزگی کے انعام سے انسان محروم رہ جاتا ہے۔پھر بعض بدیوں کو چھوٹا سمھنے کا نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ بدی کا بیچ قائم رہتا ہے جو مناسب موقع اور وقت کی تلاش میں رہتا ہے اور موقع پاتے ہی باہر آ جاتا ہے۔پس بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔کسی ایک بدی یا بدیوں کا خاتمہ تبھی ہو سکتا ہے جب سب مل کر بھر پور کوشش کریں۔ایک معاشرہ ہے، جماعت ہے پھر جماعت کا ہر فر د جو ہے وہ اس کے لئے کوشش کرے۔اگر ہر کوئی اپنی تعریف کے مطابق نیکی اور بدی کرے گا تو پھر ایک شخص ایک بات کو بدی سمجھ رہا ہو گا یا بڑی بدی سمجھ رہا ہو گا تو دوسرا اُس کو چھوٹی بدی سمجھ رہا ہوگا اور ہوسکتا ہے کہ تیسرا ان دونوں سے مختلف سوچ رکھتا ہو، تو پھر معاشرے سے بدیاں ختم نہیں ہوسکتیں۔بدیاں تبھی ختم ہوں گی جب سب کی سوچ کا دھارا ایک طرف ہو۔مثلاً مسلمانوں کی اکثریت جو ہے وہ تمام گناہوں سے بدتر بلکہ شرک سے بھی بڑا (گناہ) سور کا گوشت کھانے کو بجھتی ہے۔ہر بدمعاش، چور، زانی، لٹیرا یہ سب کام کرنے کے بعد اپنے آپ کو مسلمان کہے گا لیکن اگر کہو کہ سور کھا لو تو کہے گا میں مسلمان ہوں۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے، میں کس طرح سؤر کھا سکتا ہوں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ مسلمانوں میں مجموعی طور پر یہ احساس پیدا ہو چکا ہے کہ سور کھانا گناہ ہے اور حرام ہے۔اس معاشرے میں رہنے اور پیدا ہونے اور پلنے اور بڑھنے کے باوجود یہاں کے جو مسلمان ہیں، اُن میں ننانوے اعشاریہ نو فیصد مسلمان جو ہیں سور کے گوشت سے کراہت کرتے ہیں۔پس یہ اُس احساس کی وجہ سے ہے جو اجتماعی طور پر مسلمانوں میں پیدا کیا گیا ہے۔پس برائیوں کو روکنے اور نیکیوں کو قائم کرنے کے لئے معاشرے کے ہر فرد کے احساس کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ معمولی نیکی بھی بڑی نیکی ہے اور معمولی بدی بھی بڑا گناہ ہے۔جب تک ہم میں سے ہر ایک میں یہ احساس پیدا نہیں ہوگا اور اُس کے لئے کوشش نہیں ہوگی معاشرے میں بدیاں قائم رہیں گی اور عملی اصلاح میں روک بنتی رہیں گی۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 342 تا 346 خطبہ جمعہ فرمودہ 29 مئی 1936ء) پھر اعمال کی اصلاح میں جو دوسری وجہ ہے، وہ ماحول ہے یا نقل کا مادہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں نقل کا مادہ رکھا ہوا ہے جو بچپن سے ہی ظاہر ہو جاتا ہے کیونکہ فطرت میں ہے۔اس لئے بچہ کی فطرت میں بھی یہ نقل کا مادہ ہے۔اور یہ مادہ جو ہے یقیناً ہمارے فائدے کے لئے ہے لیکن اس کا غلط استعمال انسان کو تباہ بھی کر دیتا ہے یا تباہی کی طرف بھی لے جاتا ہے۔یہ نقل اور ماحول کا ہی اثر ہے کہ انسان اپنے ماں باپ سے زبان سیکھتا ہے، یا باقی کام سیکھتا ہے اور اچھی باتیں سیکھتا ہے، اور اچھی باتیں