خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 684 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 684

خطبات مسرور جلد 11 684 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 دسمبر 2013ء جرات پیدا ہوتی ہے۔برائیوں اور گناہوں کی اہمیت نہیں رہتی۔یہ سمجھ لیتے ہیں کہ چھوٹا گناہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے یا اس کی سزا اتنی نہیں ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحه 339 خطبہ جمعہ فرمودہ 29 مئی 1936ء) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : اگر کوئی بیمار ہو جاوے خواہ اُس کی بیماری چھوٹی ہو یا بڑی، اگر اُس بیماری کے لئے دوانہ کی جاوے اور علاج کے لئے دُکھ نہ اُٹھایا جاوے، بیمار اچھا نہیں ہو سکتا۔ایک سیاہ داغ منہ پر نکل کر ایک بڑا فکر پیدا کر دیتا ہے کہ کہیں یہ داغ بڑھتا بڑھتا گل منہ کو کالا نہ کر دے۔اسی طرح معصیت کا بھی ایک سیاہ داغ دل پر ہوتا ہے۔صغائر ، یعنی چھوٹے گناہ سہل انگاری سے کبائر“ یعنی بڑے گناہ ” ہو جاتے ہیں۔صغائر وہی داغ چھوٹا ہے جو بڑھ کر آخر کار گل منہ کو سیاہ کر دیتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 7 - مطبوعہ ربوہ ) پس یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ کسی گناہ کو بھی انسان چھوٹا نہ سمجھے۔کیونکہ جب یہ سوچ پیدا ہو جائے کہ یہ معمولی گناہ ہے تو پھر بیماری کا بیچ ضائع نہیں ہوتا اور حالات کے مطابق یہ چھوٹے گناہ بھی بڑے گناہ بن جاتے ہیں۔پس اس لحاظ سے ہم سب کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ نے تو ہر چھوٹے گناہ کی بھی اور بڑے گناہ کی بھی باز پرس اور سزا رکھی ہے۔پھر جب ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھتے ہیں کہ آپ نے چھوٹے بڑے گناہ اور نیکی کی کس طرح تعریف اور وضاحت فرمائی ہے تو مختلف موقعوں اور مختلف لوگوں کے لئے آپ کے مختلف ارشادات ملتے ہیں۔کہیں آپ نے یہ پوچھنے پر کہ بڑی نیکی کیا ہے؟ فرمایا کہ ماں باپ کی خدمت کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔کسی شخص کو آپ بڑی نیکی کے بارے میں پوچھنے پر فرماتے ہیں کہ تہجد کی ادائیگی بہت بڑی نیکی ہے۔کسی کے یہ پوچھنے پر کہ بڑی نیکی کیا ہے؟ آپ فرماتے ہیں کہ تمہارے لئے بڑی نیکی یہ ہے کہ جہاد میں شامل ہو جاؤ۔پس اس سے ثابت ہوا کہ بڑی نیکی مختلف حالات اور مختلف لوگوں کے لئے مختلف ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 339-340 خطبہ جمعہ فرمودہ 29 مئی 1936ء) جہاد کی نیکی کے بارے میں یہ بھی بتادوں ، ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ جہاد نہیں کرتے۔اُس زمانے میں جب اسلام پر ہر طرف سے تلوار سے حملے کئے جارہے تھے تو تلوار کا جہاد ہی بہت بڑی نیکی تھا۔اور اُس میں بغیر کسی جائز عذر کے شامل نہ ہونے والوں کو اللہ تعالیٰ نے سزا کا مستوجب قرار دیا ہے۔