خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 677
خطبات مسرور جلد 11 677 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6 دسمبر 2013ء غیرت کے لبادے اوڑھ لئے جاتے ہیں۔پس کسی کام کو فضل الہی سمجھ کر کرنے والا تو خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہر بات برداشت کرتا ہے۔اپنی عزت کے بجائے العِزَّةُ لِلہ“ کے الفاظ اسے عاجزی اور انکساری پر مجبور کرتے ہیں۔پس اگر باریکی سے جائزہ لیں تو پتہ چلے کہ بدتر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 18 ) پر عمل نہیں ہو رہا۔کہیں نہ کہیں اور کبھی نہ کبھی انانیت کی رگ پھڑک اُٹھتی ہے۔کسی نہ کسی رنگ وو۔میں تکبر آڑے آ جاتا ہے۔” تیری عاجزانہ راہیں اُسے پسند آئیں“ سے ہم ذوقی حفظ تو اٹھاتے ہیں۔ہم یہ مثال تو دیتے ہیں کہ ہم اس شخص کی بیعت میں شامل ہیں جس کو خدا تعالیٰ نے یہ الہام کیا کہ ” تیری عاجزانہ راہیں اُسے پسند آئیں۔“ ( تذکره صفحه 595 ایڈیشن چہارم مطبوعہ ربوہ) لیکن ہم آگے یہ نہیں دیکھتے کہ اُس نے اپنے مانے والوں کو بھی یہ تعلیم دی تھی کہ اگر تمہیں مجھ سے کوئی تعلق ہے تو تم بھی یہی رویہ اپناؤ۔(ماخوذ از ملفوظات جلد اوّل صفحہ 28۔مطبوعہ ربوہ ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں فرمایا کہ میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے احیائے ٹو کے لئے آیا ہوں۔ماخوز از ملفوظات جلد اول صفحہ 490 - مطبوعہ ربوہ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ تو ہمارے سامنے یہ نمونہ رکھتا ہے کہ آپ کا غلام بھی کہتا ہے کہ مجھ سے بھی آپ نے سخت الفاظ نہیں کہے بھی سخت بات نہیں کہی۔اور پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رعب سے ایک شخص پر کپکپی طاری ہو گئی تو فرمایا۔گھبراؤ نہیں ، میں کوئی جابر بادشاہ نہیں۔میں تو ایک عورت کا بیٹا ہوں جوسوکھا گوشت کھایا کرتی تھی۔“ (سنن ابن ماجه كتاب الاطعمة باب القديد حدیث نمبر 3312 پس یہ وہ عمل ہے جس کا عملی اظہار ہر عہدیدار کو اپنی عملی زندگیوں میں کرنے کی ضرورت ہے، ہر جماعتی کارکن کو اپنی عملی زندگی میں کرنے کی ضرورت ہے۔ہر احمدی کو اپنی عملی زندگیوں میں کرنے کی ضرورت ہے۔پس اگر کوئی عہدہ ملتا ہے، کوئی خدمت ملتی ہے تو ہمیشہ مسیح محمدی کے اس