خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 676
خطبات مسرور جلد 11 676 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6دسمبر 2013ء کرنی ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے خدا تعالیٰ سے اپنا ایک خاص تعلق پیدا کرے تو نہ صرف ہم دین کے دشمنوں کے حملوں کو ناکام بنا رہے ہوں گے بلکہ اُن کی اصلاح کر کے اُن کی دنیا و عاقبت سنوار نے والے بھی ہوں گے۔بلکہ اس فتنہ کا خاتمہ کر رہے ہوں گے جو ہماری نئی نسلوں کو اپنے بداثرات کے زیر اثر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔اس ذریعہ سے ہم اپنی نئی نسل کو بچانے والے ہوں گے۔ہم اپنے کمزوروں کے ایمانوں کے بھی محافظ ہوں گے اور پھر اس عملی اصلاح کی جاگ ایک سے دوسرے کو لگتی چلی جائے گی اور یہ سلسلہ تا قیامت چلے گا۔ہماری عملی اصلاح سے تبلیغ کے راستے مزید کھلتے چلے جائیں گے۔نئی ایجادات برائیاں پھیلانے کے بجائے ہر ملک اور ہر خطے میں خدا تعالیٰ کے نام کو پھیلانے کا ذریعہ بن جائیں گی۔ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہم حقائق سے کبھی نظریں نہیں پھیر سکتے کیونکہ ترقی کرنے والی قومیں، دنیا کی اصلاح کرنے والی قومیں، دنیا میں انقلاب لانے والی قو میں اپنی کمزوریوں پر نظر رکھتی ہیں۔اگر آنکھیں بند کر کے ہم کہہ دیں کہ سب اچھا ہے تو یہ بات ہمارے کاموں میں روک پیدا کرنے والی ہوگی۔ہمیں بہر حال حقائق پر نظر رکھنی چاہئے اور نظر رکھنی ہو گی۔ہم اس بات پر خوش نہیں ہو سکتے کہ پچاس فیصد کی اصلاح ہوگئی ہے یا اتنے فیصد کی اصلاح ہوگئی ہے بلکہ اگر ہم نے دنیا میں انقلاب لانا ہے تو سو فیصد کے ٹارگٹ رکھنے ہوں گے۔میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ اگر عملی اصلاح میں ہم سو فیصد کامیاب ہو جا ئیں تو ہماری لڑائیاں اور جھگڑے اور مقدمے بازیاں اور ایک دوسرے کو مالی نقصان پہنچانے کی کوششیں، مال کی ہوس، ٹی وی اور دوسرے ذرائع پر بیہودہ پروگراموں کو دیکھنا، ایک دوسرے کے احترام میں کمی ، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش، یہ سب برائیاں ختم ہو جائیں۔محبت، پیار اور بھائی چارے کی ایسی فضا قائم ہو جو اس دنیا میں بھی جنت دکھا دے۔یہ ایسی برائیاں ہیں جو عملاً ہمارے سامنے آتی رہتی ہیں۔جماعت کے اندر بھی بعض معاملات ایسے آتے رہتے ہیں، اس لئے میں نے ان کا ذکر کیا ہے۔اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہم میں پیدا ہو جائے تو خدمت دین کے اعلیٰ مقصد کو ہم فضل الہی سمجھ کر کرنے والے ہوں گے۔میری اس بات سے کوئی کہہ سکتا ہے کہ ہم خدمت دین کو تو فضل الہی سمجھ کر ہی کرتے ہیں لیکن سو فیصد عہدیداران اس پر پورا نہیں اترتے۔میرے سامنے ایسے معاملات آتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ عہدیداروں میں وسعت حوصلہ اور برداشت کی طاقت نہیں ہے۔کسی نے اونچی آواز میں کچھ کہ دیا تو اپنی انا اور عزت آڑے آ جاتی ہے۔کبھی جھوٹی