خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 674 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 674

خطبات مسرور جلد 11 674 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6دسمبر 2013ء پس ہمیں یادرکھنا چاہئے کہ ایک کمزوری دوسری کمزوری کی جاگ لگاتی ہے اور آخر کا رسب کچھ بر باد ہو جاتا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ احمدیت کی خوبصورتی تو نظامِ جماعت اور نظام خلافت کی لڑی میں پرویا جانا ہے۔اور یہی ہماری اعتقادی طاقت بھی ہے اور عملی طاقت بھی ہے۔اس لئے ہمیشہ خلفائے وقت کی طرف سے کمزوریوں کی نشاندہی کر کے جماعت کو توجہ دلائی جاتی رہتی ہے تا کہ اس سے پہلے کہ کوئی احمدی اتنا دور نکل جائے کہ واپسی کا راستہ ملنا مشکل ہو، استغفار کرتے ہوئے اپنی عملی کمزوریوں پر نظر رکھے اور کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرے۔اور اللہ تعالیٰ کے احسان کو یاد کرے جو اللہ تعالیٰ نے اُس پر کیا ہے۔مشرق بعید کے میرے حالیہ دورے کے دوران مجھے انڈونیشیا کے کچھ غیر از جماعت سکالرز اور علماء سے بھی ملنے کا موقع ملا۔سنگا پور میں جو reception ہوئی تھی اُس میں آئے ہوئے تھے اور جیسا کہ میں اپنے دورے کے حالات میں بیان کر چکا ہوں کہ اکثر نے اس بات کا اظہار کیا کہ ہمارے علماء کو جماعت احمدیہ کے امام کی باتیں سننی چاہئیں تو بہر حال اُن کے ایک سوال کے جواب میں میں نے انہیں یہی کہا تھا کہ آج رُوئے زمین پر جماعت احمد یہ ایک واحد جماعت ہے جو ملکی یا علاقائی نہیں بلکہ تمام دنیا میں ایک جماعت کے نام سے جانی جاتی ہے۔جس کی ایک اکائی ہے، جس میں ایک نظام چلتا ہے اور ایک امام سے منسلک ہے اور دنیا کی ہر قوم اور ہر نسل کا فرد اس میں شامل ہے۔پس یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان اور پیشگوئی کی ایک بہت بڑی دلیل ہے کہ مسلم امہ میں ایک جماعت ہوگی۔آپ نے فرمایا تھا ایک جماعت ہوگی جو صحیح رستے پر ہوگی۔(سنن الترمذی کتاب الایمان باب ما جاء فى افتراق هذه الامة حديث نمبر 2641) اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کی صداقت کی دلیل ہے۔جو عقل مند اور سعید فطرت مخالفین بھی ہیں اس بات کو سن کر خاموش ہو جاتے ہیں اور سوچتے ہیں۔لیکن اس دلیل کو ہمیشہ قائم رکھنے کے لئے ہم میں سے ہر ایک کو اپنی عملی حالتوں کی طرف ہر وقت نظر رکھنی ہوگی کیونکہ اس زمانے میں شیطان پہلے سے زیادہ منہ زور ہوا ہوا ہے۔آجکل جو عملی خطرہ ہے وہ معاشرے کی برائیوں کی بے لگامی اور پھیلاؤ ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ آزادی اظہار اور تقریر کے نام پر بعض برائیوں کو قانونی تحفظ دیا جاتا ہے۔اس زمانے سے پہلے برائیاں محدود تھیں۔یعنی محلے کی برائی محلے میں یا شہر کی برائی شہر میں یا ملک کی برائی ملک میں ہی تھی۔یا زیادہ سے زیادہ قریبی ہمسائے اُس سے متاثر ہو جاتے تھے۔لیکن آج سفروں کی سہولتیں، ٹی وی، انٹرنیٹ اور متفرق