خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 673 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 673

خطبات مسرور جلد 11 673 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6دسمبر 2013ء کے وہ معیار قائم کر لئے ہیں کہ جھوٹ اور فریب ہمارے قریب بھی نہ پھٹکے؟ کیا ہم نے اپنے دنیاوی معاملات سے واسطہ رکھتے ہوئے آخرت پر بھی نظر رکھی ہوئی ہے؟ کیا ہم حقیقت میں دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے ہیں؟ کیا ہم ہر ایک بدی سے اور بد عملی سے انتہائی محتاط ہو کر بچنے کی کوشش کرنے والے ہیں؟ کیا ہم کسی کا حق مارنے سے بچنے والے اور ناجائز تصرف سے بچنے والے ہیں؟ کیا ہم پنجگانہ نماز کا التزام کرنے والے ہیں؟ کیا ہم ہمیشہ دعا میں لگے رہنے والے اور خدا تعالیٰ کو انکسار سے یاد کرنے والے ہیں؟ کیا ہم ہر ایسے بدرفیق اور ساتھی کو جو ہم پر بداثر ڈالتا ہے، چھوڑنے والے ہیں؟ کیا ہم اپنے ماں باپ کی خدمت اور اُن کی عزت کرنے والے اور امور معروفہ میں اُن کی بات ماننے والے ہیں؟ کیا ہم اپنی بیوی اور اُس کے رشتہ داروں سے نرمی اور احسان کا سلوک کرنے والے ہیں؟ کیا ہم اپنے ہمسائے کو ادنیٰ ادنی خیر سے محروم تو نہیں کر رہے؟ کیا ہم اپنے قصور وار کا گناہ بخشنے والے ہیں؟ کیا ہمارے دل دوسروں کے لئے ہر قسم کے کینے اور بغض سے پاک ہیں؟ کیا ہر خاوند اور ہر بیوی ایک دوسرے کی امانت کا حق ادا کرنے والے ہیں؟ کیا ہم عہد بیعت کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی حالتوں کی طرف نظر رکھنے والے ہیں؟ کیا ہماری مجلسیں دوسروں پر تہمتیں لگانے اور چغلیاں کرنے سے پاک ہیں؟ کیا ہماری زیادہ تر مجالس اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کرنے والی ہیں ؟ اگر ان کا جواب نفی میں ہے تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم سے دُور ہیں اور ہمیں اپنی عملی حالتوں کی فکر کرنی چاہئے۔اگر اس کا جواب ہاں میں ہے تو ہم میں سے وہ خوش قسمت ہیں جن کو یہ جواب ہاں میں ملتا ہے کہ ہم اپنی عملی حالتوں کی طرف توجہ دے کر بیعت کا حق ادا کرنے والے ہیں۔لیکن اگر حقیقت کی آنکھ سے ہم دیکھیں تو ہمیں یہی جواب نظر آتا ہے کہ بسا اوقات معاشرے کی رو سے متاثر ہوتے ہوئے ہم ان باتوں یا ان میں سے اکثر باتوں کا خیال نہیں رکھتے اور معاشرے کی غلطیاں بار بار ہمارے اندر داخل ہونے کی کوشش کرتی ہیں اور ہم اکثر اوقات بے بس ہو جاتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم میں سے 9۔99 فیصد یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم عقیدے کے لحاظ سے پختہ ہیں اور کوئی ہمیں ہمارے عقیدے سے متزلزل نہیں کر سکتا، ہٹا نہیں سکتا۔لیکن ہمیں ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ عملی کمزوریاں جب معاشرے کے زور آور حملوں کے بہاؤ میں آتی ہیں تو اعتقاد کی جڑوں کو بھی ہلانا شروع کر دیتی ہیں۔شیطان آہستہ آہستہ حملے کرتا ہے۔نظامِ جماعت سے دُوری پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے۔اور پھر ایک قدم آگے بڑھتا ہے تو خلافت سے بھی دُوری پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے۔