خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 672
خطبات مسرور جلد 11 672 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6دسمبر 2013ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں صداقتِ اسلام اور صداقتِ احمدیت کے لئے دیئے ہیں۔اور یہ بات ہمیشہ ہمارا پلہ دشمن پر بھاری رکھتی ہے۔ڈھٹائی اور ضد اور شقاوت قلبی کی وجہ سے اگر کوئی نہ مانے تو اور بات ہے لیکن بہر حال ان کا رڈ مخالفین اسلام کے پاس نہیں ہے اور اس وجہ سے بحث سے بھی کتراتے ہیں جب ایک دفعہ پتہ لگ جائے کہ احمدی کس نہج پر بحث کر رہا ہے۔”الحوار المباشر“ کے ہمارے عربی پروگرام میں کئی عیسائیوں نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جماعت احمدیہ کے پاس دلائل ٹھوس ہیں۔اسی طرح جماعت احمدیہ کی صداقت کی بھی ہمارے پاس بہت دلیلیں ہیں۔ایک طرف غیروں پر اسلام کی صداقت ظاہر کر رہے ہیں، دوسری طرف مسلمانوں میں سے جو جماعت پر اعتراض کرتے ہیں، اُن کے اعتراض کا رڈ بھی ہے۔مخالفین اگر ضد نہ کریں اور توڑ مروڑ کر اور سیاق و سباق سے ہٹ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام کو اور فرمودہ دلائل کو پیش نہ کریں یا نہ دیکھیں تو احمدیت کی سچائی کو مانے بغیر اُن کو چارہ نہیں ہے۔لیکن ان علماء کے ذاتی مفادات انہیں اس بات پر آمادہ کرتے ہیں کہ وہ جھوٹ کے پلندوں سے عوام الناس کو ورغلاتے رہیں اور جب دلیل کوئی نہیں تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف دریدہ دہنی کرتے رہیں۔پس جہاں تک دلائل کا سوال ہے، ہمارا پلہ ہر مخالف اسلام اور مخالفت احمدیت پر بھاری ہے۔ہم میں سے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا مطالعہ کرتے رہتے ہیں، اُن کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، اُن کے سامنے تو کوئی نہیں ٹھہر سکتا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ اگر تم میری کتب پڑھ لو تو تمہارے سامنے کوئی نہیں ٹھہر سکتا۔(ماخوز از رجسٹر روایات (غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 7 صفحہ 49 روایت حضرت میاں محمد الدین صاحب) لیکن جب ہم اس پہلو کی طرف دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم میں جو عملی تبدیلی پیدا کرنا چاہتے ہیں، اس کی حالت کیا ہے؟ تو پھر فکر پیدا ہوتی ہے۔سوال اُٹھتا ہے کہ کیا ہم میں سے ہر ایک معاشرے کی ہر برائی کا مقابلہ کر کے اُسے شکست دے رہا ہے؟ کیا ہم میں سے ہر ایک کے ہر عمل کو دیکھ کر اُس سے تعلق رکھنے والا اور اُس کے دائرے اور ماحول میں رہنے والا اُس سے متاثر ہو رہا ہے، یا پھر ہم ہی معاشرے کے اثر سے متاثر ہو کر اپنی تعلیم اور اپنی روایات کو بھولتے چلے جارہے ہیں۔کیا ہم میں سے ہر ایک بھر پور کوشش کرتے ہوئے اپنی اس طرح عملی اصلاح کر رہا ہے جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں تعلیم دی ہے جو ہم سے یہ تقاضا کرتی ہے، یہ پوچھتی ہے کہ کیا ہم نے سچائی