خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 671
خطبات مسرور جلد 11 671 49 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6دسمبر 2013ء خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 06 دسمبر 2013ء بمطابق 06 فتح 1392 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: گزشتہ خطبہ میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک خطبہ کے حوالے سے عملی اصلاح کی طرف توجہ دلائی گئی تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ اور آپ کے غلام صادق کے طریق اور طرزعمل کے واقعات بیان کئے تھے جن میں ایک خُلق سچائی کا تفصیل کے ساتھ بیان ہوا تھا کہ ہمارے آقا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے غلامِ صادق کس اعلیٰ معیار پر قائم تھے۔اور پھر معیاروں کی یہ بلندی آگے صحابہ کو بھی ان نمونوں کی پیروی کرتے ہوئے کس اعلیٰ مقام پر لے گئی۔سچائی کے حوالے سے بات تو ایک مثال کے طور پر تھی۔حقیقت میں تو ہر نیکی جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں کرنے کا حکم فرمایا ہے، اُس کا حصول اور ہر برائی جس سے رکنے کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم فرمایا ہے، اُس سے نہ صرف رکنا بلکہ نفرت کرنا عملی اصلاح کی اصل اور جڑ ہے۔پس ہم تب حقیقی مسلمان کہلائیں گے ، ہم تب زمانے کے امام کی حقیقی جماعت کے فرد کہلائیں گے جب نیکیاں اور اعلیٰ اخلاق ہم میں پیدا ہوں گے، جن کے پیدا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے ایک حقیقی مسلمان کو حکم دیا ہے۔اور دوسری طرف بدی سے انتہائی کراہت کے ساتھ نفرت ہو۔گویا حقیقی مومن ایک ایسا سمویا ہوا انسان ہوتا ہے جو نیکیوں کی تلاش کر کے انہیں سینے سے لگانے والا اور بدیوں سے دور بھاگنے والا ہو۔تبھی وہ اعتدال کے ساتھ اپنے معاملات طے کر سکتا ہے۔یہ نہیں کہ برائیوں اور نیکیوں کے بیچ لڑکا ہوا ہواور پھر دعوے بھی بلند بانگ ہوں۔گزشتہ خطبہ میں یہ بھی ذکر ہوا تھا کہ اعتقادی لحاظ سے ہمارے پاس بڑے ٹھوس دلائل ہیں جو