خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 660
خطبات مسرور جلد 11 660 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 نومبر 2013ء خدیجہ نے دریافت کیا کہ آپ کو کیا تکلیف ہے؟ آپ نے سارا واقعہ سنایا۔حضرت خدیجہ نے جواب دیا کہ علا والله لا يُخْزِيك الله أبداً۔کہ ہر گز نہیں، ہرگز نہیں۔خدا کی قسم ! کبھی خدا آپ کو رُسوا نہیں کرے گا کیونکہ آپ میں فلاں فلاں خوبیاں ہیں اور ان خوبیوں میں سے ایک یہ بتائی کہ جو اخلاق دنیا سے اُٹھ گئے ہیں آپ نے اپنے وجود میں ان کو دوبارہ پیدا کیا ہے اور بنی نوع انسان کی اس کھوئی ہوئی متاع کو دوبارہ تلاش کیا ہے۔پھر بھلا خدا آپ جیسے وجود کو کس طرح ضائع کر سکتا ہے؟ تو انبیاء کی بعثت کی غرض یہی ہوتی ہے اور مومنوں کے سپر دیہی امانت ہوتی ہے جس کی حفاظت کرنا اُن کا فرض ہوتا ہے۔محبت کی وجہ سے انبیاء کا وجود مومنوں کو بیشک بہت پیارا ہوتا ہے۔مگر حقیقت کے لحاظ سے انبیاء کی عظمت کی وجہ وہی نور ہے جسے دنیا تک پہنچانے کے لئے خدا تعالیٰ انہیں مبعوث کرتا ہے، انہیں خدا تعالیٰ کا وہ پیغام ہی بڑا بنا تا ہے جو وہ لاتے ہیں۔پس جب نبی کے اشباع یعنی پیروکار اس وجود کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں قربان کر دیتے ہیں تو اس پیغام کی حفاظت کے لئے کیا کچھ نہ کرنے کے لئے تیار ہوں گے۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کی حفاظت کے لئے صحابہ کرام نے قربانیاں کیں ، وہ واقعات پڑھ کر بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اُن کی محبت کو دیکھ کر آج بھی دل میں محبت کی لہر پیدا ہو جاتی ہے۔اُحد کی جنگ میں ایک ایسا موقع آیا کہ صرف ایک صحابی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہ گئے اور دشمن بے تحاشا تیر اور پتھر پھینک رہے تھے۔اُس صحابی نے اپنا ہاتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کی طرف کردیا اور اُس پر اتنے تیر اور پتھر لگے کہ وہ ہمیشہ کے لئے بیکار ہو گیا۔کسی نے صحابی سے پوچھا، یہ کیا ہوا تھا؟ تو انہوں نے بتایا کہ اتنے تیر اور پتھر اس پر لگے ہیں کہ ہمیشہ کے لئے شل ہو گیا۔اُس نے پوچھا کہ آپ کے منہ سے اُف نہیں نکلتی تھی۔تو انہوں نے کہا اور بڑالطیف جواب دیا۔کہنے لگے کہ اُف نکلنا چاہتی تھی لیکن میں نکلنے نہیں دیتا تھا کیونکہ اگر اُف کرتا تو ہاتھ ہل جاتا اور کوئی تیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لگ جاتا۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ تم اس قربانی کا اندازہ کرو اور سوچو کہ اگر آج کسی کی انگلی کو زخم آجائے تو وہ کتنا شور مچاتا ہے،مگر اُس صحابی نے ہاتھ پر اتنے تیر کھائے کہ وہ ہمیشہ کے لئے شل ہو گیا۔پھر ایک اور صحابی کا واقعہ بیان کرتے ہیں، یہ بھی اُحد کا موقع ہے۔اُحد کی جنگ میں بعض صحابہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونے کے بعد پھر ا کٹھے ہوئے تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔صحابہ کو دیکھوکون کون شہید ہوا ہے اور کون کون زخمی ہوا ہے۔اس پر بعض صحابہ میدان کا جائزہ لینے کے لئے گئے۔ایک