خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 659
خطبات مسرور جلد 11 659 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 نومبر 2013ء صاحب ایک وکیل تھے۔آپ نے ایک مقدمے میں شیخ علی احمد صاحب کو وکیل نہیں کیا تو انہوں نے لکھا کہ مجھے افسوس ہے کہ اس مقدمے میں آپ نے مجھے وکیل نہیں کیا۔اس لئے افسوس نہیں کہ میں کچھ لینا چاہتا تھا، فیس لوں گا، بلکہ اس لئے کہ خدمت کا موقع نہیں مل سکا۔سچائی اور راستبازی ایسی چیز ہے کہ دشمن بھی اس سے اثر قبول کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔شیخ علی احمد صاحب آخر تک غیر احمدی رہے۔احمدی نہیں تھے اور انہوں نے بیعت نہیں کی لیکن ظاہری رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اُن کا اخلاص کسی طرح بھی احمدیوں سے کم نہیں تھا۔پھر آپ لکھتے ہیں کہ انہی پر موقوف نہیں بلکہ جن جن کو آپ سے ملنے کا اتفاق ہوا، اُن کی یہی حالت تھی۔جب جہلم میں مولوی کرم دین صاحب نے آپ پر مقدمہ کیا تو ایک ہندو وکیل لالہ بھیم سین صاحب تھے، اُن کی چھٹی آئی۔اُن کا خط آیا کہ میرا لڑکا بیرسٹری پاس کر کے آیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اُسے آپ کی خدمت کی سعادت حاصل ہو اور اس میں آپ اُن کو وکیل کر لیں۔یہ لڑ کے جن کا ذکر ہے بڑے لائق وکیل تھے، وہاں لاء (Law) کالج کے پرنسپل بھی رہے اور پھر وہاں انڈیا میں ہائی کورٹ کے چیف جج مقرر ہوئے۔تو حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ لالہ بھیم سین صاحب نے الحاح سے یہ درخواست اس لئے کی کہ سیالکوٹ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ کچھ عرصہ رہنے کا اتفاق ہوا تھا اور وہ آپ کی سچائی دیکھ چکے تھے۔سچائی ایک ایسی چیز ہے جو اپنوں پر ہی نہیں، غیروں پر بھی اثر کئے بغیر نہیں رہ سکتی۔آپ فرماتے ہیں کہ انبیاء دنیا میں آ کر راستی اور سچائی کو قائم کرتے ہیں اور ایسا نمونہ پیش کرتے ہیں کہ دیکھنے والا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں آ کر کوئی تو ہیں اور مشین گئیں ایجاد نہیں کی تھیں، بینک جاری نہیں کئے تھے یا صنعت و حرفت کی مشینیں ایجاد نہیں کی تھیں۔پھر وہ کیا چیز تھی جو آپ نے دنیا کو دی اور جس کی حفاظت آپ کے ماننے والوں کے ذمہ تھی۔وہ سچائی کی روح اور اخلاق فاضلہ تھے۔یہ پہلے مفقود تھی۔آپ نے پہلے اُسے کمایا اور پھر یہ خزانہ دنیا کو دیا۔اور صحابہ اور اُن کی اولادوں اور پھر اُن کی اولادوں کے ذمہ یہی کام تھا کہ ان چیزوں کی حفاظت کریں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب پہلی وحی نازل ہوئی تو آپ یہ حکم سن کر کہ ساری دنیا کو خدا تعالیٰ کا کلام پہنچا ئیں، کچھ گھبرا گئے۔اس لئے کہ آپ اس عظیم الشان ذمہ داری کو کس طرح پورا کریں گے؟ اس گھبراہٹ میں آپ گھر آئے۔حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آئے اور شدت جذبات سے آپ اُس وقت سردی محسوس کر رہے تھے۔جب گھر میں داخل ہوئے تو آپ نے کہا مجھے کپڑا پہنا دو، کپڑا اوڑھا دو۔حضرت