خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 658 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 658

خطبات مسرور جلد 11 658 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 نومبر 2013ء کی تھی، مگر اس پر دیرینہ قبضہ اس گھر کے مالکوں کا تھا جن کا ساتھ ہی گھر تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بڑے بھائی نے اسے حاصل کرنے کے لئے مقدمہ چلایا اور جیسا کہ دنیا داروں کا طریق ہے، ایسے مقدموں میں جھوٹی سچی گواہیاں مہیا کرتے ہیں تا کہ جس کو وہ حق سمجھتے ہیں وہ انہیں مل جائے۔آپ کے بڑے بھائی نے بھی ایسا ہی کیا اور گواہیاں بہت ساری لے کر آئے۔گھر کے مالکوں نے کہا ہمیں کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے، ان کے چھوٹے بھائی کو بلا کر گواہی لی جائے اور جو وہ کہہ دیں ہمیں منظور ہوگا۔یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں کہا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عدالت میں بلایا گیا اور آپ سے پوچھا گیا کہ کیا ان لوگوں کو اس راستے سے آتے جاتے اور یہاں بیٹھے آپ عرصے سے دیکھ رہے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ ہاں میں دیکھ رہا ہوں۔عدالت نے مخالف فریق کے حق میں فیصلہ دے دیا۔آپ کے بھائی آپ پر سخت ناراض ہوئے مگر آپ نے فرمایا کہ جب واقعہ یہ ہے تو میں کیسے انکار کروں۔اسی طرح آپ کے خلاف ایک مقدمہ چلا کہ آپ نے ڈاکخانے کو دھوکہ دیا ہے۔یہ قانون تھا کہ اگر کوئی شخص کسی پیکٹ میں، پارسل میں کوئی خط ڈال دے، چٹھی ڈال دے تو خیال کیا جاتا تھا کہ اُس نے ڈاکخانہ کو دھوکہ دیا ہے اور پیسے بچائے ہیں۔اور یہ ایک فوجداری جرم تھا جس کی سزا قید کی صورت میں دی جا سکتی تھی۔آپ نے ایک پیکٹ میں یہ مضمون پریس کی اشاعت کے لئے بھیجا تھا اور اس میں ایک خط بھی ڈال دیا تھا جو اس اشتہار یا مضمون کے متعلق ہی تھا، کچھ ہدایات تھیں اور اسے آپ اُس کا حصہ ہی سمجھتے تھے، نقصان پہنچانا مقصد نہیں تھا۔پریس کے مالک نے جو غالباً عیسائی تھے، یہ رپورٹ کر دی۔آپ پر مقدمہ چلایا گیا۔وکیل نے کہا کہ مقدمہ کرنے والوں کی مخالفت تو واضح ہے اور گواہیوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔آپ انکار کر دیں کہ میں نے نہیں ڈالا تو کچھ نہیں ہوگا۔آپ نے فرمایا کہ یہ نہیں ہوسکتا۔جو میں نے بات کی ہے، اُس کا انکار کیسے کر سکتا ہوں۔چنانچہ جب عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت نے پوچھا آپ نے کوئی ایسا مضمون ڈالا تھا ؟ تو آپ نے فرمایا کہ ہاں ڈالا تھا لیکن کسی دھو کے کے لئے نہیں بلکہ خط کو مضمون کا حصہ ہی سمجھا تھا۔اس سچائی کا عدالت پر اتنا اثر ہوا کہ اُس نے کہا کہ ایک اصطلاحی جرم کے لئے ایک بچے اور راستبار شخص کو سز انہیں دی جاسکتی اور بری کر دیا۔پھر آپ لکھتے ہیں کہ اسی طرح کئی واقعات، مقدمات میں آپ کو پیش آتے رہے جن کی وجہ سے اُن وکلاء کے دلوں میں جن کا ان مقدمات سے تعلق رہا کرتا تھا، آپ کی بہت عزت تھی۔چنانچہ شیخ علی احمد