خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 646
خطبات مسرور جلد 11 646 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 نومبر 2013ء ”خدا تعالیٰ کے ساتھ جو رابطہ کم ہو گیا ہے اور دنیا کی محبت غالب آگئی ہے اور پاکیزگی کم ہوگئی ہے۔خدا تعالیٰ اس رشتہ کو جو عبودیت اور الوہیت کے درمیان ہے پھر مستحکم کرے گا اور گمشدہ پاکیزگی کو پھر لائے گا۔دنیا کی محبت سرد ہو جائے گی۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 500 - مطبوعہ ربوہ) اور فرمایا: یہ میرے ذریعہ سے ہوگا۔یہ بہت بڑا مقصد اور بہت بڑا دعویٰ ہے جو آپ نے بیان فرمایا۔آج کی مادی دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا جو ہے مادیت میں ڈوب کر اپنے پیدا کرنے والے خدا کو بھول چکی ہے اور جو بظاہر مذہب یا خدا کے وجود کو کچھ سمجھتے ہیں، کچھ تسلیم کرتے ہیں تو وہ بھی ظاہری رنگ میں۔نہ انہیں خدا تعالیٰ کی ذات کے بارے میں کچھ یقین ہے، نہ اس کا ادراک ہے، نہ فہم ہے، نہ مذہب کا کچھ ادراک ہے۔اُن کے لئے اصل چیز دنیا اور اس کی جاہ وحشمت ہے۔صرف نام کے طور پر کسی مذہب کو ماننے والے ہیں۔ایسے حالات میں یقیناً یہ ایک بہت بڑا دعویٰ ہے۔لیکن آپ کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر اس قدر یقین ہے اور اپنے مقصد کو حاصل کرنے پر کس قدر اعتماد ہے، اس کا اظہار جو الفاظ میں نے پڑھے ہیں ان کی شوکت سے ہو جاتا ہے۔لیکن یہ سب الفاظ، یہ آپ کا دعویٰ ، یہ بعثت کی غرض اور مقاصد ہمیں بھی کچھ توجہ دلا ر ہے ہیں کہ یہ سب کچھ ہے جس کو پڑھ اور سن کر ہم جماعت میں داخل ہوئے ہیں، یا ہمارے باپ دادا جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے تھے اور ہم نے ان کی اس نیکی کا فیض پایا، یہ ہم سے کچھ مطالبہ کر رہا ہے یا یہ مقاصد ہم سے کچھ مطالبہ کر رہے ہیں۔اور وہ یہ کہ ہم ان مقاصد کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا ئیں۔ہمیں ان کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔ہم نے بھی ان کے نتائج کے حصول کی کوشش کرنی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام جو جو باتیں دنیا میں پیدا کرنے آئے ہم نے بھی اُن کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہے۔ہم نے بھی مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کی تکمیل کے لئے مددگار بنا ہے۔جب ہم نے منادی کی آواز کو سنا اور ایمان لائے تو اب ہم بھی یہ اعلان کرتے ہیں اور ہمیں یہ اعلان کرنا چاہئے کہ نَحْنُ أَنْصَارُ الله کہ ہم اپنی حالتوں میں یہ تبدیلیاں پیدا کریں گے اور اس پیغام کو پھیلائیں گے اس مقصد کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے۔پس ہمیں اپنا جائزہ لینا ہوگا، سوچنا ہوگا، منصوبہ بندی کرنی ہوگی، اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنی ہوگی تاکہ ہم کا میابیوں سے ہمکنار ہوں اور آگے بڑھتے چلے جائیں۔اگر ہم آپ کو مان کر پھر آرام سے بیٹھ جائیں