خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 634 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 634

خطبات مسرور جلد 11 634 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 نومبر 2013ء کا پیغام ہم نے ہر قوم تک پہنچانا ہے۔اللہ کے فضل سے وہاں ایک ماؤری نے بیعت بھی کی ہے، جماعت میں شامل ہوئے ہیں اور ایک دو اور تیار بھی ہیں۔اور یہی میں نے اُن کو کہا کہ اب ترجمہ آیا ہے تو امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ اور لوگ بھی جماعت احمدیہ میں شامل ہوں گے اور اسلام کو قبول کریں گے۔اس کے بعد جیسا کہ میں نے کہا وہاں مسجد بیت المقیت نئی بنی ہے اور اس کے حوالے سے وہاں ایک reception بھی تھی اور ماؤری بادشاہ بھی اور ملکہ بھی وہاں آئے ، جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔اس کے علاوہ بہت ساری نمایاں شخصیات وہاں تھیں۔ملک کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والے لوگ وہاں تھے۔107 کے قریب مہمان آئے اور مہمانوں نے جو تاثرات دیئے۔ان میں Anglican Church کے ایک پادری نے کہا کہ تمام مذاہب کو بغیر کسی مزاحمت کے ایک دوسرے کے ساتھ چلنا چاہئے۔پھر کہتے ہیں کہ امام جماعت نے جو یہ کہا ہے کہ پریس میں اسلام کا نام بدنام کیا جارہا ہے یہ بھی بالکل درست ہے۔یہاں میں نے مسجد کے حوالے سے بات کی۔اور کس طرح اسلام کو بدنام کیا جاتا ہے اور کس طرح غیر مسلموں پر اس کا غلط تاثر ہے، اُس کے بارے میں کہا تھا۔تو کہتے ہیں کہ پرمیس میں اسلام کا نام جو امام جماعت نے کہا کہ بدنام کیا جارہا ہے یہ بالکل درست ہے۔جب کبھی بھی دہشتگر دی کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو میڈیا ہمیشہ مسجد یا مسلمانوں کو نماز ادا کرتے ہوئے ٹی وی پر دکھاتا ہے جس کی وجہ سے غیر مسلم سمجھتے ہیں کہ اسلام اور دہشت گردی کا ایک تعلق ہے۔سچ تو یہ ہے کہ اسلام کا تشدد اور دہشتگردی سے کوئی بھی تعلق نہیں اور امام جماعت نے اس کو اپنے خطاب میں ثابت بھی کر دیا ہے۔بہر حال وہاں پریس اور میڈیا نے ماؤری کا جوفنکشن تھا اُس کو بھی اور مسجد کے استقبال کو بھی بڑا نمایاں کیا۔نیوزی لینڈ میں ہی ایک اور فنکشن تھا۔اُن کا دارالحکومت جو شہر آکلینڈ (Auckland)۔آٹھ سو میل کے فاصلے پر ہے۔وہاں ایک ممبر آف پارلیمنٹ کنول جیت سنگھ ہیں ، جو ویسے تو سکھ ہیں اور ہندوستان سے اُن کا تعلق ہے، انہوں نے اسے آرگنا ئز کیا تھا۔پارلیمنٹ کی عمارت میں جو اُن کا گرینڈ ہال ہے، اُن کے نزدیک بڑا اہم ہال ہے، وہاں یہ فنکشن ہوا جس میں بعض اراکین پارلیمنٹ بھی شامل ہوئے، سفارتکار شامل ہوئے اور سفارتکاروں میں اسرائیل کے بھی تھے، ایران کے بھی تھے اور برطانیہ کے بھی ڈپٹی ہائی کمشنر تھے۔پولیس افسر تھے ، یونیورسٹی پروفیسر تھے۔وہاں بھی امن کے حوالے سے باتیں ہوئیں اور یہ کہ دنیا کو آج کل کیا کرنا چاہئے۔اور اُس کے بعد پھر خیر ہم نے دیکھا بھی کہ اس پر بھی لوگوں کے کافی اچھے تاثرات تھے۔ނ