خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 633
خطبات مسرور جلد 11 633 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 نومبر 2013ء یہ آسٹریلیا کا مختصر ذکر ہے۔پھر وہاں سے ہم نیوزی لینڈ گئے۔وہاں جو پہلی مسجد بنی ہے ”بیت المقیت“ اُس کا افتتاح بھی ہوا۔لیکن اُس افتتاح سے پہلے وہاں کا Maori قبیلہ جو ہے، بہت پرانا قبیلہ ہے، اُس کے بادشاہ کی طرف سے استقبالیہ تھا۔اور وہاں بادشاہ نے استقبالیہ دیا۔جس طرح وہ باقی جو ہیڈ آف سٹیٹ آتے ہیں اُن کو استقبالیہ دیتے ہیں، اس طرح سارا انتظام انہوں نے کیا۔وہاں جماعت احمدیہ کا لوائے احمدیت“ بھی اُن کے اپنے جھنڈے کے ساتھ پہلے ہی لہرایا جار ہا تھا۔بادشاہ عموماً ایسے فنکشن میں چاہے کوئی بھی ہو خود نہیں بیٹھا کرتا لیکن وہاں خود بادشاہ بیٹھے تھے۔تقریب جو اُن کی ایک روایتی تقریب ہے وہ تو جو ہوئی، اُس کے بعد پھر اُن کا ایک بڑا سارا ہال ہے، وہاں ہمیں لے گئے۔وہاں اُن سے کچھ باتیں ہوتی رہیں اور پھر اُس کے بعد قرآن کریم کا جو ماؤری زبان میں ترجمہ ہوا ہے وہ اُن کو پیش کیا گیا۔بہر حال بعد میں یہ ایک بڑی پُر وقار تقریب تھی۔اس کے بعد پھر مسجد کے افتتاح کی جو تقریب تھی ان کے بادشاہ نے وہاں بھی آنے کے لئے کہا بلکہ ان کی ملکہ نے پہلے نہیں آنا تھا لیکن انہوں نے بھی کہا کہ میں بھی آؤں گی اور بعض شخصیات کے ساتھ یہ لوگ وہاں آئے۔ماؤری زبان میں قرآن کریم کا جو ترجمہ ہے اُس کے بارے میں پہلے میں ذکر کر دوں کہ یہ مکرم شکیل احمد منیر صاحب نے کیا تھا۔پہلے پندرہ سپارے کئے جو شائع ہو گئے تھے تو اب مکمل کر دیا ہے۔اور یہ کوئی زبان دان نہیں ہیں بلکہ فزکس کے پروفیسر ہیں۔لیکن انہوں نے حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کے کہنے پر زبان سیکھی ، پھر ترجمہ کرنا شروع کیا۔اکاسی (81) سال ان کی عمر ہے۔پچیس سال انہوں نے لگائے۔زبان بھی سیکھی اور ترجمہ بھی کیا اور کافی وقت ان کو لگا۔کیونکہ کہتے ہیں ماؤری زبان میں جمع کے صیغے ہیں جن کو سمجھنے میں کافی دیر لگی۔اور کہتے ہیں کہ میری عمر بھی ایک بہت بڑی رکاوٹ تھی ، اخبار نے بھی اس بات کو لکھا۔بہر حال بڑی محنت سے انہوں نے مسلسل یہ کام کیا۔بعض روکیں بھی آئیں، مسائل بھی آئے۔دوسروں سے جو ترجمے کروائے گئے تھے اُن کو جب چیک کیا تو وہ معیار کے نہیں تھے ، اسی لئے پھر خود ان کو توجہ پیدا ہوئی تھی۔تو اس عمر میں یہ بہت بڑا کام ہے جو انہوں نے کیا۔اللہ تعالیٰ ان کو جزا دے۔بہر حال اخباروں نے پھر وہاں اس ترجمے کے اوپر کافی لکھا اور اس کو سراہا گیا۔مجھ سے بھی انہوں نے پوچھا کہ ماؤری قبیلے کے تھوڑے سے لوگ ہیں، ( چھوٹا قبیلہ ہے، اتنا بڑابھی نہیں )۔تم نے ترجمہ کیوں کیا ؟ میں نے کہا ہمارا تو کام ہے ہر زبان میں ترجمہ کرنا کیونکہ ہر ایک کو عربی پڑھنی نہیں آتی۔اور قرآن کریم