خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 625
خطبات مسرور جلد 11 625 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 نومبر 2013ء والے جو احباب شامل ہوئے اُن میں جیسا کہ میں نے کہا غیر از جماعت بھی تھے، ان کی تعداد اڑتالیس افراد پر مشتمل تھی۔ان میں یونیورسٹی کے پروفیسر، سابق ممبر پارلیمنٹ، ایک مذہبی جماعت ” نجیۓ العلماء کے آٹھ نمائندگان بھی اس میں شامل ہوئے اور اُن میں سے ایک یو نیورسٹی میں پروفیسر ہیں جو میرے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔لیکچر جو تھوڑا سا مختصر خطاب تھا وہ سننے کے بعد کہنے لگے کہ انڈونیشیا آ کے ہماری یو نیورسٹی میں بھی لیکچر دیں ہم وہاں arrange کرتے ہیں۔میں نے کہا اگر آپ کر سکتے ہیں تو بڑی اچھی بات ہے لیکن جو لوگ وہاں شور مچائیں گے اس کا شاید آپ کو اندازہ نہیں۔بہر حال اُن میں شرافت بہت تھی۔بعض سعید فطرت تھے حالانکہ علماء کی کونسلوں کے ممبر تھے۔سنگاپور کی اس reception میں وہاں کے ایک مہمان Mr۔Lee Koon Choy بھی تھے۔یہ 29 سال تک آٹھ ممالک میں سنگاپور کے سفیر اور ہائی کمشنر رہ چکے ہیں۔ممبر آف پارلیمنٹ تھے۔سینیٹر منسٹر آف سٹیٹ رہ چکے ہیں اور سنگا پور کے بانیوں میں سے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب میں ساٹھ کی دہائی میں مصر میں سفیر تھا اُس وقت مصر کے اور سارے عرب کے حالات بہت اچھے تھے ، امن قائم تھا لیکن اب گزشتہ سالوں سے عرب ممالک میں امن بر باد ہو گیا ہے اور اسلام کا ایک غلط تاثر پیش کیا جا رہا ہے۔کہنے لگے: لیکن مجھے اس بات سے خوشی ہے اور میں اس بات کو سراہتا ہوں کہ احمد یہ مسلم جماعت کے سر براہ دنیا کے سامنے حقیقی اور پر امن اسلام کا نام روشن کر رہے ہیں اور پیغام دے رہے ہیں۔یہ ابھی بھی باوجودیکہ ریٹائر ہو چکے ہیں ، سنگا پور کے ایسے لوگوں میں سے ہیں جن کی وہاں کا ہر شخص بڑی عزت اور احترام کرتا ہے۔اسی طرح Indonesian Mosuqe Council's Muslimah Talent Department کے ہیڈ اور سٹیٹ اسلامی یونیورسٹی جکارتہ میں ویمن سٹڈی سینٹر کے ہیڈ اور لیکچرر۔Mr Ida Rosyidah نے میرا خطاب سننے کے بعد کہا کہ جماعت کو چاہئے کہ وہ ترقی یافتہ ممالک کے علوم و فنون ، ترقی پذیر ممالک میں لے کر جائے اور اس طرح یہ عالمی نا انصافی اور غربت سے لڑنے کے لئے سب کی رہنما جماعت بنے۔یہاں جو میرا لیکچر تھاوہ دنیا کی اقتصادی حالت اور اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے کے موضوع پر تھا۔تو اس بات پر انہوں نے اپنی بات کو آگے بڑھایا۔کہتے ہیں آج دنیا کی کسی بھی تنظیم کے پاس اس قسم کا نظام اور قیادت نہیں ہے جو جماعت احمدیہ کے پاس ہے۔آج جماعت احمدیہ ہی اسلام کا صحیح نمونہ ہے۔اور یہ وہاں کی اسلامی یو نیورسٹی کے پروفیسر ہیں۔