خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 624 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 624

خطبات مسرور جلد 11 624 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 نومبر 2013ء ہیں ، اُن کا سو فیصد بیان نہ میں کرسکتا ہوں ، نہ کوئی اور کر سکتا ہے۔ہاں ایم ٹی اے پر کچھ حد تک یہ دیکھے جا سکتے ہیں، شاید کچھ آ بھی گئے ہوں۔انگریزی دان طبقے کے لئے پریس ڈیسک نے اس دفعہ اچھا انتظام کیا ہوا تھا اور دورے کے جو مختلف خاص اہم مواقع تھے اُن کی خبر دنیا کے احمد یوں تک پہنچتی رہی ہے۔بہر حال ہر دورہ اور ہر دن ہمیں اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور اُس کے شکر کے مضمون کی نئی آگاہی دیتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا ثبوت مہیا کرتا ہے۔بہر حال اب اس تمہید کے بعد میں حالات سفر اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا ذکر کرتا ہوں۔ہمارے دورے کی پہلی منزل سنگا پور تھی۔سنگا پور ائیر پورٹ پر سنگاپور کے احمدیوں کے علاوہ انڈونیشیا اور ملائشیا کے بعض عہد یداران مرد و خواتین بھی آئے ہوئے تھے اور اُن سب کی ایک عجیب جذباتی کیفیت تھی جس کا کچھ اندازہ آپ کو ایم ٹی اے پر خطبے کے دوران بعض جھلکیاں دیکھ کے ہو گیا ہوگا۔بہر حال سنگاپور کا یہ دورہ تقریباً دس دن کا تھا اور اس میں انڈونیشیا، ملائشیا، برونائی ، فلپائن، تھائی لینڈ، کمبوڈیا، ویتنام، پاپوانیوگنی، سری لنکا، انڈیا اور میانمار سے آنے والے احمدیوں اور وفود سے ملاقات ہوئی۔انڈونیشیا سے تقریباً اڑھائی ہزار کی تعداد میں احمدی آئے ہوئے تھے اور ان میں سے اکثر احمدی کوئی ایسے اچھے کھاتے پیتے نہیں تھے لیکن وفا اور اخلاص سے پر تھے۔بعض قرض لے کر یا اپنی کوئی چیز بیچ کر یا جائداد بیچ کر سفر کا خرچ کر کے آئے تھے۔جیسا کہ میں پہلے بھی ایک دفعہ شاید سفر کے دوران کسی خطبہ میں ذکر کر چکا ہوں کہ ان لوگوں کو فکر تھی تو یہ کہ ہمارے دین کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ دین پر قائم رکھے۔ان میں سے وہ لوگ بھی تھے جو بڑے عرصے سے تقریباً ایک سال سے گھر سے بے گھر ہیں۔وہاں کے رہنے والوں نے اُن کو اُن کے گھروں سے نکال دیا ہے اور عارضی shelter میں رہ رہے ہیں لیکن انہوں نے اپنے ایمان کو قربان نہیں کیا ہے بلکہ ان کے ایمان مزید مضبوط ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ جو جماعتی مصروفیات ہوتی ہیں، meetings ہیں، ملاقاتیں ہیں ، کلاسیں ہیں۔غیروں کے ساتھ جو دوسرے پروگرام تھے ، وہ یہاں سنگاپور میں بھی ہوئے۔ایک پروگرام reception کا تھا،جس میں انڈونیشیا سے آنے والے غیر از جماعت بھی شامل تھے، جن میں پروفیسر بھی تھے، سکالرز بھی تھے، سیاستدان بھی تھے۔پڑھا لکھا طبقہ تھا اُن میں سے بعض جرنلسٹ بھی تھے۔دو اخباروں کے جرنلسٹ بھی آئے ہوئے تھے۔انہوں نے انٹرویولیا اور جماعت کے بارے میں تعارف اور جو کچھ جماعت کے ساتھ وہاں ہو رہا ہے اُس کے بارے میں اُن سے کچھ باتیں ہوئیں۔مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے