خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 623
خطبات مسرور جلد 11 623 46 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 نومبر 2013ء خطبہ جمہ سید نا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفة المسح الخامس اید اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 15 نومبر 2013ء بمطابق 15 نبوت 1392 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح - لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: گزشتہ چند ہفتے ، جیسا کہ آپ جانتے ہیں، میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ اور سنگا پور، جاپان وغیرہ کے دورے پر رہا ہوں۔جیسا کہ عموماً میرا طریق ہے دوروں کے دوران اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی جو بارش ہوتی ہے واپس آکر اُس کا ذکر کیا کرتا ہوں۔سو آج مختصر یہ ذکر آپ کے سامنے کروں گا۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو گننا اور اس کی انتہا جاننا تو ممکن نہیں کیونکہ جب ہم سمجھتے ہیں کہ ہم فضلوں کی حدوں کو چھونے والے ہیں تو اللہ تعالیٰ فوراً ہی ایسے سامان پیدا کر دیتا ہے اور ہماری اس غلط فہمی کو دور کر دیتا ہے کہ جن باتوں کو تم بیشمار فضل سمجھتے ہو، یہ تو ابھی ابتدا ہے۔اب میں تمہیں ایک قدم اور آگے بڑھاتا ہوں۔پس اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا شمار اور اُس کی انتہا جاننا انسانی بس سے باہر ہے۔خاص طور پر جب اللہ تعالیٰ کے ان وعدوں کا سلسلہ ہر موڑ پر کھڑا ہمیں ایک اور خوشخبری سنا رہا ہو جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے ہیں اور جن کی پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی۔فضلوں کی انتہا کا ذکر تو دور کی بات ہے، مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی کہ کس فضل کو لے کر بات شروع کروں۔بہر حال اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا ایک خلاصہ میں پیش کروں گا جو ان سات ہفتوں کے دوران سفر میں ہمیں نظر آئے۔ان جگہوں کی کچھ تفصیل تو وکیل التبشیر صاحب کی رپورٹس جو الفضل کو وہ بھیج رہے ہیں، اُس میں شائع ہو رہی ہیں، اُس میں سے بعض لوگوں نے پڑھ لی ہوں گی لیکن بعض باتوں کی تصویر کھینچنا، تصویر کشی کرنا اور بیان کرناممکن نہیں ہوتا۔غیروں کے تأثرات جو غیر جماعت کا ذکر کرتے ہوئے کرتے