خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 575 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 575

خطبات مسرور جلد 11 575 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 اکتوبر 2013ء پناہ میں آنے کی بہت زیادہ دعا کرو۔اَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ پڑھو۔لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللہ پڑھو۔اللہ تعالیٰ یہ امید دلاتا ہے جو سننے والا اور جاننے والا ہے کہ اگر نیک نیتی سے دعائیں کی گئی ہیں تو یقینا وہ سنتا ہے۔یہاں یہ بات بھی کھول کر بتا دوں کہ شیطان کے حسد کی آگ جس میں وہ خود بھی جلا اور آدم کی اطاعت سے انکاری ہوا اور باہر نکلا اور پھر انسانوں کو اس آگ میں جلانے کا عہد بھی اُس نے کیا، یہ بہت خطرناک چیز ہے۔یہ حسد کی آگ ہی ہے جو معاشرے کی بے سکونی کا باعث ہے۔پس ہر احمدی کو اس سے بہت زیادہ بچنے کی ضرورت ہے۔اور خاص طور پر اس سے بچنے کے لئے خدا تعالیٰ کے حضور بہت گڑ گڑا کر دعا کرنی چاہئے۔شیطان کا حملہ دو طرح کا ہے۔ایک تو وہ خدا تعالیٰ سے تعلق کو توڑنے اور تڑوانے کے لئے حملے کرتا ہے اور دوسری طرف انسان کا جو انسان سے تعلق ہے اُسے تڑوانے کی کوشش کرتا ہے۔جبکہ احسن قول اللہ تعالیٰ سے محبت کی طرف بھی لے جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی خاطر انسان کی محبت دوسرے انسان سے بھی پیدا کرتا ہے۔یعنی جیسا کہ میں نے پہلے کہا ، حقوق اللہ اور حقوق العباد احسن قول سے ہی ادا ہو سکتے ہیں۔اس لئے ہمارا یہ نعرہ جو ہم لگاتے ہیں، کہ محبت سب کے لئے ، نفرت کسی سے نہیں ، ہمارے غیر بھی اس نعرہ سے متاثر ہوتے ہیں اور اگر ہماری مجالس میں آئیں تو اس کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔لیکن ہم آپس میں اس کا اظہار نہ کر رہے ہوں تو یہ نعرہ بے فائدہ ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے اور بار بار میں جماعت کے سامنے پیش کرتا ہوں کہ رُحَمَاء بَيْنَهُم " ( الفتح : 30) ایک دوسرے سے بہت رحم کا اور رافت کا سلوک کرو، پیار و محبت کا سلوک کرو۔جو ایسے لوگ ہیں وہی صحیح مومن ہیں۔یہ مومن کی نشانی ہے۔بڑھ بڑھ کر تقریریں کر کے ہم چاہے جتنا مرضی ثابت کرنے کی کوشش کریں کہ یہ ہمارا نعرہ ہے محبت سب کے لئے ، نفرت کسی سے نہیں پھر یہ بھی ہم پیش کریں کہ جماعت کی اکائی کی ایک مثال ہے۔یہ جتنی بھی ہماری کوششیں ہوں اس کا حقیقی اثر تبھی ہو گا جب ہم اپنے گھروں میں، اپنے ماحول میں یہ فضا پیدا کریں گے کہ ایک دوسرے سے رحم کا سلوک کرنا ہے، ایک دوسرے سے درگزر کا سلوک کرنا ہے۔یہ بھی ایک ایسی نیکی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر تلقین فرمائی ہے۔فرما یاوَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ( النور : 23 ) کہ معاف کرو اور درگزر سے کام لو۔غرض کہ اللہ تعالیٰ کے بے انتہا حکم ہیں جو اللہ تعالیٰ کا قرب دلاتے ہیں لیکن یہ دنیا ایسی ہے جہاں ہر قدم پر شیطان سے سامنا ہے۔جو بہت سے موقعوں پر ہمارے قول و فعل میں تضاد پیدا کر کے ہمیں اُن باتوں سے دور لے جانا چاہتا ہے جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے