خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 574
خطبات مسرور جلد 11 574 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 اکتوبر 2013ء کھلے ہوتے ہیں۔وہ تو اس کا گویا شکار ہیں لیکن زاہدوں پر بھی حملہ کرنے سے وہ نہیں چوکتا اور کسی نہ کسی رنگ میں موقع پا کر ان پر بھی حملہ کر بیٹھتا ہے۔جو لوگ خدا کے فضل کے نیچے ہوتے ہیں اور شیطان کی بار یک در بار یک شرارتوں سے آگاہ ہوتے ہیں وہ تو بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہیں لیکن جو ابھی خام اور کمزور ہوتے ہیں وہ کبھی کبھی مبتلا ہو جاتے ہیں۔ریا اور معجب وغیرہ سے بچنے کے واسطے ایک ملامتی فرقہ ہے جو اپنی نیکیوں کو چھپاتا ہے اور سئینات کو ظاہر کرتا رہتا ہے۔ایک فرقہ ایسا بھی ہے جو کہتے ہیں نیکیاں ظاہر نہ کرو اور اپنی برائیاں ظاہر کرو تا کہ کوئی یہ نہ کہے کہ بڑے نیک ہیں۔فرمایا کہ: ” وہ اس طرح پر سمجھتے ہیں کہ ہم شیطان کے حملوں سے بچ جاتے ہیں مگر میرے نزدیک وہ بھی کامل نہیں ہیں۔ان کے دل میں بھی غیر ہے۔اگر غیر نہ ہوتا تو وہ کبھی ایسانہ کرتے۔انسان معرفت اور سلوک میں اس وقت کامل ہوتا ہے جب کسی نوع اور رنگ کا غیر ان کے دل میں نہ رہے اور یہ فرقہ انبیاء علیہم السلام کا ہوتا ہے۔یہ ایسا کامل گروہ ہوتا ہے کہ اس کے دل میں غیر کا وجود بالکل معدوم ہوتا ہے۔“۔( ملفوظات جلد 3 صفحہ 630-631 - مطبوعہ ربوہ ) بہر حال اس سے یہ بھی کوئی نہ سمجھ لے کہ انبیاء کو یہ مقام ملتا ہے اس کی کوشش کی ضرورت نہیں، اس کے علاوہ کسی کو نہیں مل سکتا۔کئی مواقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود بھی فرمایا ہے کہ تم اپنے معیار اونچے کرنے کی کوشش کرتے چلے جاؤ۔بلکہ فرمایا کہ ولی بنو، ولی پرست نہ بنو۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 2 صفحہ 139 - مطبوعہ ربوہ ) پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نمونے کو پیش فرما کر فرمایا کہ یہ تمہارے لئے اسوہ حسنہ ہے، اس پر چلنے کی کوشش کرو۔پس شیطان کے حملے سے بچنے کے لئے اپنی بھر پور کوشش کی ضرورت ہے۔اس کے لئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے احسن قول ضروری ہے۔ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر نظر رکھنا ضروری ہے۔پھر دعا بھی اللہ تعالیٰ نے سکھائی کہ قرآنِ کریم کی آخری دو سورتیں جو ہیں جس میں شیطان کے ہر قسم کے حملوں سے بچنے کی دعا ہے۔پھر ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ( حم السجدة : 37 ) اگر تجھے شیطان کی طرف سے گوئی بہ کا دینے والی بات پہنچی ہے، ایسی باتیں شیطان پہنچائے جو احسن قول کے خلاف ہو تو اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگ۔اللہ تعالیٰ کی