خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 573
خطبات مسرور جلد 11 573 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 اکتوبر 2013ء انسانوں کے درمیان فساد ڈالتا ہے۔شیطان کے بھی بہت سے معنی ہیں۔اکثر ہم جانتے ہیں۔شیطان وہ ہے جو رحمان خدا کے حکم کے خلاف ہر بات کہنے والا ہے۔تکبر، بغاوت اور نقصان پہنچانے والا ہے اور اس طرف مائل کرنے والا ہے۔حسد کی آگ میں جلنے والا ہے۔نقصان پہنچانے والا ہے۔دلوں میں وسو سے پیدا کرنے والا ہے۔غرض کہ جیسا کہ میں نے کہا ہر وہ بات جو احسن ہے اور جس کے کرنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے تا کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا ہوں، شیطان اُس کے الٹ حکم دیتا ہے۔نزغ یا التزغ کا مطلب ہے ، شیطانی باتیں یا مشورے جن کا مقصد لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑ کا نا اور فساد پیدا کرنا ہے۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ شیطان انسان کے لئے عدُوا مُّبِينًا“ ہے، کھلا کھلا دشمن ہے۔اگر تم میرے بندے بن کر اُن تمام احسن باتوں کو نہیں کہو گے اور کرو گے، اُن پر عمل نہیں کرو گے تو پھر رحمان خدا کی بندگی سے نکل کر شیطان کی گود میں گرو گے۔اور شیطان تمہارے اندر جھوٹ بھی پیدا کرے گا، تکبر بھی پیدا کرے گا، بغاوت بھی پیدا کرے گا اور دوسروں کو نقصان پہنچانے کی طرف بھی مائل کرے گا، دلوں میں وسوسے بھی پیدا کرے گا، حسد کی آگ میں بھی جلائے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تم لوگ رات کو سوتے وقت جو آخری دو سورتیں سورۃ الفلق “ اور الناس “ ہیں یہ تین دفعہ پڑھ کر اپنے اوپر پھونکا کرو تا کہ شیطانی خیالات اور وسوسوں اور برائیوں سے محفوظ رہو اور اس طرف تمہاری توجہ رہے۔پڑھ کر یہ بھی خیال رہے کہ ہمیں ان سے محفوظ رہنا ہے۔اللہ تعالیٰ سے یہ دعا ہو کہ ہمیں ان سے محفوظ رکھ۔پس احسن بات اُس وقت ہوگی ، نیکیوں میں بڑھنے اور شیطان سے بچنے کی حالت بھی اُس وقت ہوگی جب اللہ تعالیٰ کی مدد بھی شاملِ حال ہو گی۔اُس سے دعاؤں کے ساتھ ہدایت طلب کرتے ہوئے اُس کے احکام کی تلاش اور شیطان سے بچنے کی کوشش ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : شیطان انسان کو گمراہ کرنے کے لئے اور اُس کے اعمال کو فاسد بنانے کے واسطے ہمیشہ تاک میں لگا رہتا ہے۔یہاں تک کہ وہ نیکی کے کاموں میں بھی اس کو گمراہ کرنا چاہتا ہے اور کسی نہ کسی قسم کا فساد ڈالنے کی تدبیریں کرتا ہے۔نماز پڑھتا ہے تو اس میں بھی ریا وغیرہ کوئی شعبہ فسادکاملا ناچاہتا ہے۔“، یعنی نماز پڑھنے والے کے دل میں خیالات پیدا کر کے ایک امامت کرانے والے کو بھی اس بلا میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔پس اس کے حملہ سے کبھی بے خوف نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس کے حملے فاسقوں، فاجروں پر تو کھلے