خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 549
خطبات مسرور جلد 11 549 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14اکتوبر 2013ء اسی طرح حضرت خلیفہ امسیح الثالث اور خلیفتہ المسیح الرابع کی بہن اور میری خالہ تھیں۔گو یا حضرت خلیفہ اول سے لے کر اب تک خلفاء سے ان کا رشتہ تھا۔پہلے بھی ان کا میرے سے بڑا پیار کا تعلق رہا۔پھر جب حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے مجھے امیر مقامی اور ناظرِ اعلیٰ بنایا تو اُس وقت پیار کے ساتھ احترام بھی شامل ہو گیا اور خلافت کے بعد تو اس تعلق میں ایک عجیب طرح کا رنگ آ گیا کہ حیرت ہوتی تھی۔انتہائی ملنسار اور خوش اخلاق خاتون تھیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ناصرات جواحمدی بچیاں ہیں، اُن پر بھی ان کا ایک اس لحاظ سے احسان ہے جو تاریخ احمدیت میں درج بھی ہے کہ 1939ء میں احمدی بچیوں کے لئے مجلس ناصرات الاحمدیہ کا قیام عمل میں آیا تھا، جس کی پہلی صدر یا نگران محترمہ استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ تھیں اور سیکرٹری صاحبزادی امتہ الرشید صاحبہ تھیں اور اس کی تحریک بھی انہی نے کی تھی۔آپ کہتی ہیں جب میں دینیات کلاس میں پڑھتی تھی تو میرے ذہن میں یہ تجویز آئی کہ جس طرح خواتین کی تعلیم کے لئے لجنہ اماءاللہ قائم ہے، اسی طرح لڑکیوں کے لئے بھی کوئی مجلس ہونی چاہئے۔چنانچہ محترم ملک سیف الرحمن صاحب کی بیگم صاحبہ اور محترم حافظ بشیر الدین عبید اللہ صاحب کی بیگم صاحبہ اور اس طرح اپنی کلاس کی بعض اور بہنوں سے خواہش کا اظہار کیا اور ہم نے مل کر لڑکیوں کی ایک انجمن بنائی جس کا نام حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی منظوری سے ناصرات الاحمد یہ رکھا گیا۔بلکہ یہ مجلس ہی تھی یا کوئی اجلاس ہو رہا تھا کہ خلیفہ اسیح الثانی وہاں سے گزرے۔انہوں نے پوچھا یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا یہ نو جوان لجنہ یا اس طرح کا کوئی لفظ استعمال کیا تھا، کی کوئی تنظیم ہے۔انہوں نے کہا نہیں۔تو بہر حال پھر ان کے جو استاد تھے، اُن کی تحریک پر اجازت لی اور پھر با قاعدہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ناصرات الاحمد یہ نام تجویز کیا اور یہ مجلس بنی۔ہر ایک کا ان کے بارے میں یہی خیال اور تبصرہ ہے کہ انتہائی سادہ مزاج اور غریب نواز تھیں۔مہمان نوازی کی صفت بہت نمایاں تھی۔خصوصاً جلسہ کے دنوں میں اپنا سارا گھر مہمانوں کے لئے دے دیا کرتی تھیں اور ایک سٹور میں سارا خاندان اکٹھا ہو جاتا تھا۔بلکہ بعض دفعہ میں نے دیکھا ہے کہ سٹور بھی نہیں ، مہمانوں کے سپر دسارا گھر ہوتا تھا اور آپ گھر والے باہر ٹینٹ لگا کر رہتے تھے۔مہمانوں کی بہت ہی زیادہ خاطر مدارت کرتی تھیں۔اور یہ ان میں غیر معمولی صفت تھی۔امیر وغریب سب کے لئے برابر مہمان نوازی تھی۔بہت غریب پرور تھیں۔غریبوں کا بہت خیال رکھنے والی تھیں۔نہایت خندہ پیشانی سے ان سے پیش آتیں۔ان کے جو بچے جو انہوں نے پالے، اُن میں سے کئی کے یہی بیان ہیں کہ ہمیں بیٹے یا بیٹی کی طرح رکھا۔اچھے سکولوں میں تعلیم دلوائی ، گھر میں اچھی طرح رکھا،