خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 530
خطبات مسرور جلد 11 530 39 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 ستمبر 2013ء خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرزا مسروراحمد خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 27 ستمبر 2013ء بمطابق 27 تبوک 1392 ہجری شمسی بمقام مسجد طہ۔سنگاپور تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ایک مرتبہ پھر مجھے اس علاقے کے احمدیوں سے ملنے کی توفیق عطا فرمائی۔ملائیشیا اور انڈونیشیا کے حالات جماعتی لحاظ سے ایسے ہیں کہ وہاں میرا جانا مشکل ہے۔اس لئے سنگا پور ہی ایسی جگہ ہے جہاں ان جماعتوں کے افراد سے ملاقات کے سامان اللہ تعالیٰ مہیا فرما دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ جلد ایسے حالات پیدا فرمائے کہ ان ملکوں میں بھی آسانیاں پیدا ہو جائیں اور جماعت کے لئے آسانیاں پیدا ہوں اور وہاں جانا خلیفہ وقت کے لئے بھی سہولت سے ہو۔اس دفعہ انڈونیشیا اور ملائیشیا سے تین ہزار سے اوپر احمدی آئے ہیں۔زیادہ تعدا د انڈونیشیا کے احمدیوں کی ہے۔اس کے علاوہ تھائی لینڈ، برما، میانمار، فلپائن وغیرہ سے احمدی بھی اور بعض غیر از جماعت بھی تشریف لائے ہیں۔بہر حال یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے ملاقات کے سامان پیدا فرما دیئے۔اس خطے میں انڈونیشیا ایسا ملک ہے جہاں احمدیت کی وجہ سے افراد جماعت پر بہت زیادہ ظلم ہورہا ہے اور بعض شہادتیں بھی ہوئی ہیں اور حکومتی اہلکاروں کی موجودگی میں سب کچھ ہوا ہے اور ہورہا ہے۔یہ نہیں کہ بند ہو گیا ہے یا ایک دفعہ ہوا۔تقریباً سات سال پہلے میں یہاں پہلی دفعہ آیا تھا تو اس وقت بھی کچھ عرصہ پہلے احمدیوں پر انڈونیشیا میں ظلموں کا ایک سلسلہ شروع ہوا تھا۔مساجد پر حملے ہوئے ، توڑ پھوڑ ہوئی ، جماعتی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔احمدیوں پر حملے ہوئے ، جانی اور مالی نقصان ہوا۔بہر حال اس کے بعد تو دشمنی کا یہ سلسلہ جو ہے وہ تیز سے تیز تر ہوتا گیا۔جانی و مالی نقصان ہوتا رہا اور آپ سب جانتے ہیں کہ کس طرح ظالمانہ اور وحشیانہ طور پر پولیس کی نگرانی میں احمدیوں کو شہید کیا گیا۔ایسا ظلم تھا کہ انصاف پسند لوکل پریس