خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 528 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 528

خطبات مسرور جلد 11 528 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 ستمبر 2013 ء 1916ء میں سندھ میں پیدا ہوئے تھے۔پھر اُس کے بعد جڑانوالہ فیصل آباد آگئے ، آپ کی پرورش وہاں ہوئی ، وہیں تعلیم وتربیت پائی۔غالباً 1945ء میں دینی تعلیم کے حصول کے لئے قادیان آگئے تھے۔یہیں پہلی شادی ہوئی لیکن پارٹیشن کی وجہ سے قائم نہ رہ سکی تو اس سے کوئی اولاد بھی نہیں تھی۔دوسری شادی دور درویشی میں اڑیسہ میں مکرم سید شفیق الدین صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پوتی اور مكرم سيد محي الدين صاحب مرحوم کی بڑی بیٹی امتہ اللہ فہمیدہ صاحبہ سے ہوئی۔ان کے بطن سے آٹھ بچے پیدا ہوئے۔پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں۔آپ کے پانچوں بیٹے سلسلہ کی خدمت بجالا رہے ہیں۔آپ نے اپنی درویشانہ زندگی نہایت سادگی اور بڑے صبر و تحمل کے ساتھ گزاری۔دوکانداری اور مختلف کام کر کے گزارہ کرتے تھے۔دفتر زائرین میں خدمت بجالاتے رہے۔غیر مسلموں کو بڑے شوق سے تبلیغ کرتے تھے۔آپ نے دیہاتی مبلغ کی حیثیت سے بھی خدمت کی توفیق پائی۔اسی دور میں ادیب فاضل کی ڈگری بھی حاصل کی۔صوم وصلوٰۃ کے بڑے پابند، مخلص اور باوفا انسان تھے اور کمزوری کے باوجود بھی آخری عمر تک باجماعت نماز کھڑے ہو کر ادا کیا کرتے تھے۔قرآن کریم سے بہت شغف تھا۔با قاعدگی سے تلاوت کرنے والے تھے، مرحوم موصی بھی تھے۔تیسرا جنازہ ہے مکرم شیخ رحمت اللہ صاحب کا جو مختصر علالت کے بعد 12 ستمبر کو 94 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ آپ نے 1943ء میں 24 سال کی عمر میں احمدیت قبول کی تھی۔آغاز میں دہلی کے امریکی سفارتخانے میں بطور کلرک ملازمت کی، پھر 1946ء میں پہلے لاہور پھر ایک سال کے بعد کراچی منتقل ہو گئے جہاں چوہدری شاہ نواز صاحب کے پاس ادویات کی درآمد کا کام شروع کیا۔اور پھر رہنے کی جگہ نہیں تھی ان کی تو دفتر میں سو جایا کرتے تھے۔1950ء میں چوہدری شاہ نواز صاحب کی مدد سے اپنا ذاتی کاروبار شروع کیا جس میں اللہ تعالیٰ نے بہت برکت عطا فرمائی۔دنیاوی تعلیم صرف میٹرک تھی لیکن بظاہر بڑے پڑھے لکھے لگتے تھے اور ہر کوئی یہی سمجھتا تھا کہ یہ کافی تعلیم یافتہ ہیں۔1950ء میں نائب امیر کراچی مقرر ہوئے۔1953ء کے فسادات میں حضرت مصلح موعود نے آپ کو وقتی طور پر چوہدری عبداللہ خان صاحب کی جگہ امیر جماعت کراچی مقرر کیا۔چوہدری صاحب سرکاری ملازم تھے اور امکان تھا کہ انہیں ملازمت سے ہٹا دیا جائے گا۔تاہم اس کے بعد چوہدری صاحب کی علالت کے باعث آپ بطور امیر کراچی کام کرتے رہے۔1964 ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔جو کراچی کی تاریخ احمدیت لکھی گئی ہے اُس میں لکھا ہے کہ 1953ء کے فسادات میں حضرت مصلح موعود نے