خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 512
خطبات مسرور جلد 11 512 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 ستمبر 2013ء حال یہ منطق مجھے تو سمجھ نہیں آئی۔یہ تو ضد بازی ہے اور ڈھٹائی ہے اور اپنی برتری ثابت کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے۔دنیا کے امن اس طرح قائم نہیں ہوتے۔امن قائم کرنے کے لئے انصاف کے تقاضے پورے کرنے ہوتے ہیں اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے اسلام کی تعلیم جیسی اور کوئی خوبصورت تعلیم نہیں کہ کسی قوم کی دشمنی بھی تمہیں انصاف سے دُور نہ لے جائے۔اس حوالے سے بار بار میں نے دنیا کے لیڈروں کو توجہ دلائی ہے کہ اگر اس طرح کیا جائے تو پھر امن قائم ہوتا ہے۔اس آیت کی تعلیم سے جو میں نے پڑھی ہے اگر یو این او اس اصول پر انصاف قائم کرے تو انصاف قائم ہوگا۔جہاں ظلم دیکھیں تمام ممالک مشترک کوشش کریں، یہ نہیں ہے کہ کسی کو ویٹو کا حق ہے اور کسی کو اپنی مرضی کرنے کا حق ہے۔یہاں کسی ایک ملک کی فارن پالیسی کا سوال نہیں ہے۔پھر ایک ملک کہتا ہے کہ ہم شام میں امن قائم کرنے کے لئے زمینی فوجیں تو نہیں بھیجیں گے لیکن ہوائی حملے کریں گے۔یعنی اس شہر اور ملک کو مکمل طور پر کھنڈر بنادیں گے جیسے پہلے بنایا تھا۔معصوموں کو بھی ماریں گے، بچوں کو بھی ماریں گے، عورتوں کو بھی ماریں گے جس طرح عراق اور لیبیا میں کیا تھا۔وہاں کیا حاصل ہوا ہے جو یہاں حاصل ہوگا۔شہر کھنڈر بن گئے اور امن ابھی تک قائم نہیں ہوا۔اللہ تعالیٰ نے انہی میں سے ان کے تو ڑ بھی کئے ہوئے ہیں۔رشیا کے پرائم منسٹر صاحب نے کل ہی بیان دیا ہے بلکہ شاید آرٹیکل لکھا ہے کہ یہ کوئی انصاف نہیں ہے جو تم انفرادی طور پر فیصلے کر رہے ہو۔اگر یہی فیصلے اس طرح کرنے تھے تو پھر یو این او کس لئے بنائی تھی ؟ انہوں نے بڑے واضح طور پر لکھا ہے کہ اگر یہی حال رہا تو یو این او کا حشر بھی لیگ آف نیشنز کی طرح ہوگا۔اور یقینا اُس نے صحیح کہا ہے۔پھر عوام کے حق کے حوالے سے مصر میں حکومت کو الٹادیا۔کہا یہ گیا کہ عوام کے حقوق ادا نہیں ہو رہے اور حکومت اپنے آپ کو بچانے کے لئے بے دردی سے عوام کو قتل کر رہی ہے۔یقینا یہ سچ ہے کہ حکومت کا یہ رویہ غلط تھا لیکن مصر میں حکومت گرانے کے بعد جو حکومت آئی، وہ شدت پسندوں اور مذہبی جنونیوں کی حکومت تھی۔پھر بڑی طاقتوں کو فکر پیدا ہوئی کہ اب کیا ہوگا ؟ امریکہ میں ایک بڑے اخبار کے جرنلسٹ نے مجھے سوال کیا کہ اب مصر میں اس کے بعد امن کے قیام کے کیا امکانات ہیں؟ تو میں نے اُسے یہی کہا تھا کہ تم لوگوں نے شاید اپنا اثر قائم کرنے کے لئے حکومت کو الٹوادیا تھا لیکن تمہارے اندازے کی غلطی ہو گئی۔اور جو لوگ آئے ہیں وہ نہ تمہاری مرضی کے ہیں ، نہ وہاں کی عوام کی مرضی کے ہیں۔یعنی اکثریت عوام کی اُن کے خلاف ہے۔ایک چنگاری ابھی بھی سلگ رہی ہے اور تم دیکھنا کہ چند مہینوں تک دوبارہ اسی طرح