خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 508 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 508

خطبات مسرور جلد 11 508 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 ستمبر 2013ء اظہار کرتے ہیں کہ آپ کا پیغام عین وقت کی ضرورت ہے اور ہم بالکل آپ کی تائید کرتے ہیں لیکن جب اس پیغام پر عملی اظہار کا موقع آتا ہے تو بڑی طاقتوں کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا یہ تو ظاہری کوشش ہے، اصل ہتھیار تو ہمارے پاس ہر کام کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضل کو سمیٹنے کے لئے دعا کا ہے جس کی طرف احمدیوں کو ان حالات میں بہت زیادہ توجہ دینی چاہئے۔انسانیت کے لئے عموماً اور امتِ مسلمہ کے تباہی سے بچنے کے لئے خصوصاً ہمیں دعائیں کرنی چاہئیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آج سے اٹھاسی سال پہلے تقریباً 1925ء میں اُس وقت شام کے جو حالات تھے پر خطبہ دیا تھا اور بتایا تھا کہ دمشق کی تاریخ بڑی پرانی ہے۔اسلام سے پہلے بھی یہ شہر بہت سے دینوں کا مرکز رہا ہے یا اس کی اہمیت رہی ہے۔اسلام میں بھی بڑے عرصے تک یہ دارالخلافہ رہا ہے اور اس شہر میں اکثر پرانے مذاہب کی یادگاریں تھیں۔جیسا کہ میں نے کہا 1925ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس شہر کے بارے میں یا شام کے بارے میں خطبہ دینے کی وجہ یہ بتائی کہ اُس وقت جو حالات تھے وہ یہ تھے کہ دروزیوں نے جو وہاں ایک قبیلہ ہے، انہوں نے آزادی کی آواز اُٹھائی اور اس آواز پر وہاں کے باقی مسلمان بھی شامل ہو گئے۔وہ لوگ پہاڑوں میں رہنے والے تھے لیکن باقی مسلمان جو شہروں میں رہنے والے تھے وہ بھی شامل ہو گئے جبکہ اُس وقت وہاں فرانسیسیوں کی حکومت تھی۔یہ بھی آپ نے تجزیہ کیا کہ انتظامی لحاظ سے فرانسیسی حکومت تھی گو بعض فیصلوں کے لحاظ سے مفتی یا مولوی بھی حاکم تھے اور اس طرح دو تین طرز کے وہاں حکمران تھے لیکن بہر حال جو سیاسی حکومت تھی وہ فرانس کے تحت تھی۔اور جو مفتی حاکم تھے وہ یہ کہ اگر کسی لٹریچر کو چھاپنے کی اجازت ہوتی یا کسی مذہبی کتاب کو چھاپنے کی اجازت ہوتی اور اگر مفتی اُس کے بارے میں کچھ کہہ دیتا تو گورنر بھی کچھ نہیں کر سکتا تھا۔حضرت مصلح موعودؓ نے مثال دی کہ جماعت احمدیہ نے وہاں لٹریچر شائع کرنے کی گورنر سے اجازت لی اور یہ چھپ بھی گیا لیکن مفتی نے چھپنے کے بعد اُسے Ban کر دیا۔گورنر کو شکایت کی گئی تو اُس نے کہا کہ اس معاملے میں میرا کوئی اختیار نہیں۔یہ اختیار تو مفتی کے پاس ہے۔تو بہر حال فرانس کی انتظامی حکومت تھی۔سیاسی طور پر اگر کوئی اُس کے خلاف آواز اُٹھاتا تو اس سے سختی سے نپٹا جاتا۔اُس وقت اُس کے خلاف بغاوت یا آزادی کی آواز جب مقامی لوگوں نے اُٹھائی تو فرانس کی حکومت نے دمشق پر بہت بڑا ہوائی حملہ کیا۔کہتے ہیں کہ ستاون اٹھاون گھنٹے تک بم برسائے گئے اور شہر کی تاریخ کو، اُس کی تاریخی عمارات کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیا گیا۔ہزاروں لوگ مارے گئے۔یہ شہر کیوں برباد کیا گیا؟ کیوں وہ لوگ