خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 500 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 500

خطبات مسرور جلد 11 500 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 ستمبر 2013ء مل گئیں۔جامعہ احمدیہ میں ان کی رہائش تھی۔ایک دن وہاں نماز تہجد ہورہی تھی۔وہ اکیلی اور پریشان حال بیٹھی تھیں۔اُن کو نماز پڑھنی نہیں آتی تھی۔اُن سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نماز پڑھنا چاہتی ہیں؟ کہنے لگیں کہ ہاں میں نماز پڑھنا چاہتی ہوں۔پھر ایک نو مبایعہ نے اُن کو وضوکرنا سکھایا اور نماز کا طریق بتایا جس پر وہ نماز میں شامل ہو گئیں۔پہلے دن انہوں نے چین اور شرٹ پہنی ہوئی تھی، جب جلسہ گاہ میں عورتوں کا لباس دیکھا تو اُن پر بڑا اثر ہوا اور انہوں نے مبلغ نتیجیم کی اہلیہ سے کہا کہ میں تو ایسا ہی لباس پہننا چاہتی ہوں۔چنانچہ اُس خاتون نے جلسہ گاہ کے بازار سے زنانہ لباس خریدا اور وہ پہنا۔میرے خطابات سننے کے بعد کہنے لگیں کہ حقیقی اسلام اور متقی کی صفات کے بارے میں جو خطبات دیئے ہیں یا خطابات کئے ہیں اُن کا مجھ پر گہرا اثر ہوا ہے۔یہ خطابات سننے کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ میں مسلمان ہونا چاہتی ہوں۔چنانچہ یہ عالمی بیعت میں شامل ہوئیں اور بیعت کر کے جماعت میں داخل ہو گئیں اور مجھے ملی بھی تھیں۔اللہ کے فضل سے بڑے ڈھکے ہوئے لباس میں تھیں۔پس یہ جلسہ اپنوں اور غیروں سب پر روحانی ماحول کا اثر ڈالتا ہے۔ایک سعید فطرت کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اسلام کی خوبیوں کا معترف ہو کر اسے قبول کرلے۔لیکن ہمارے مخالفین کو ، اُن لوگوں کو جن کو دوسروں سے پہلے یہ حکم تھا، غیروں سے پہلے یہ حکم تھا کہ امام مہدی کو جا کر میر اسلام کہنا، برف کے پہاڑوں پر سے گزرنا پڑے تو گزر کر جانا اور سلام کہنا ، اُن لوگوں کو اس بات کی سمجھ نہیں آئی۔اللہ تعالیٰ انہیں بھی عقل دے۔پھر یہ دیکھیں کہ اکثریت نے ، خاص طور پر جو غیر مہمان تھے ، انہوں نے بچوں اور نو جوانوں اور بوڑھوں اور عورتوں کو جو مہمان نوازی کرتے ہوئے دیکھا ہے تو اُس کا اُن پر بڑا گہرا اثر ہوا ہے اور ان سب نے تقریباً اس کا ذکر کیا ہے۔پس یہ خدمت کا جذبہ جو جماعت احمدیہ کے افراد میں ہے یہ بھی ایک خاموش تبلیغ ہے۔ایک بچہ ہے اُس نے پانی پلایا اور آگے گزر گیا لیکن وہ ایک دل میں جو اثر قائم کر گیا اُس نے اُس دل کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لا ڈالا۔اسی طرح کوئی نوجوان ہے، کسی کو کھانا کھلا رہا ہے، کوئی کار پارکنگ میں ہے تو خوش خلقی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور ایسے مظاہرے کرتے ہوئے پارکنگ کروا رہا ہے۔لڑکے لڑکیاں سکینگ اور چیکنگ کر رہی ہیں تو بڑی خوش اخلاقی سے کر رہی ہیں۔لجنہ نے ہر شعبہ میں اپنے انتظامات کئے جیسا کہ واقعات میں ذکر بھی ہوا ہے اور بڑے اچھے کئے۔سہولت پہنچانے میں مصروف رہیں۔تو یہ باتیں جہاں سب کارکنان کے لئے اپنوں کی دعاؤں کو حاصل کرنے والا بناتی ہیں، غیروں کو اسلام اور احمدیت کی حقیقت سے آگاہ کر رہی ہوتی ہیں اور اس خوبصورت تعلیم کا گرویدہ کر رہی