خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 499
خطبات مسرور جلد 11 499 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 ستمبر 2013ء گوئٹے مالا سے وہاں کے ممبر نیشنل پارلیمنٹ سرخی او سے لیس صاحب (Sergio Celis) شامل ہوئے۔یہ عیسائی ہیں۔کہتے ہیں کہ میں جماعت احمدیہ کی بلند اخلاقی قدروں، اُن کی باہمی محبت و اخوت اور یگانگت نیز اُن کے مضبوط جذبہ ایمان سے بہت متاثر ہوا ہوں۔ایسا محبت و پیار میں نے کہیں نہیں دیکھا۔جماعتی تنظیم قابل ستائش ہے۔بہت شاندار اور مثالی جلسہ تھا۔ہر انتظام سے بہت متاثر ہوا ہوں۔اسلام کی خوبصورت تصویر جو جماعت احمدیہ پیش کرتی ہے وہ دوسروں سے بالکل مختلف ہے۔اگر چہ مختلف ممالک اور متفرق اقوام کے افراد تھے مگر ایسے محسوس ہوا جیسے سب کا دل ایک ہے۔میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے جلسہ میں شامل ہونے کا موقع ملا۔جاپان سے ایک خاتون، مینے سا کی ہیروکو (Minesaki Hiroko) صاحبہ تشریف لائی تھیں۔موصوفہ پی ایچ ڈی ہیں۔جاپان میں ایک یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور جاپانی کے علاوہ انگریزی اور عربی زبان بھی جانتی ہیں۔مسلمان نہیں ہیں۔موصوفہ نے بتایا کہ جلسہ سالانہ میں شامل ہو کر بیحد خوش ہیں اور عرب احمدیوں سے مل کر اور جلسہ کے ماحول سے بیحد متاثر ہوئی ہیں۔کہتی ہیں سونامی طوفان کے نتیجہ میں جاپان میں آنے والی تباہی کے موقع پر جماعت احمدیہ نے مذہب ونسل سے بالا ہو کر انسانیت کی بے انتہا خدمت کی ہے۔جماعت کے عقیدے اور عمل میں کوئی فرق نہیں ہے۔جو کہتے ہیں وہ کرتے بھی ہیں۔گیانا سے ممبر آف پارلیمنٹ جو مسلمان ہیں، منظور نادر صاحب، یہ بھی شامل ہوئے تھے اور کافی پرانے پارلیمنٹیرین ہیں۔لیبر کے منسٹر بھی رہ چکے ہیں۔انڈسٹری اکاؤنٹس کے منسٹر بھی رہ چکے ہیں۔اس وقت صدر گیانا کے پولیٹیکل افیئرز کے ایڈوائزر ہیں۔کہتے ہیں کہ جلسہ سالانہ کے انتظامات سے بہت متاثر ہوا ہوں۔یہ تینوں دن یہاں شامل ہوتے رہے۔اور دوسرے دن جماعت کی ترقیات کی جور پورٹ پڑھی جاتی ہے، اسے سن کر کہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کی دوران سال ترقی اور خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت کے واقعات سے بھی بہت متاثر ہوا ہوں۔جیم سے ایک غیر احمدی مہمان خاتون Miss Sels Annie Maria جلسے میں آئی تھیں۔آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں اور کہتی ہیں کہ لوکل جماعت کے ایک ممبر کے ذریعہ سے ان کو جماعت کا تعارف حاصل ہوا۔بقیہ معلومات جماعت کی ویب سائٹ سے حاصل کیں۔ان کی دلچسپی کے مد نظر میجیے جماعت نے اُن کو جلسہ سالانہ یو کے (UK) میں شمولیت کی دعوت دی۔وہ یہاں آئیں۔کہتی ہیں جلسہ کے دوران سارے پروگرام میں نے دیکھے، بھر پور شرکت کی اور اسی طرح یورپین احمدی خواتین کے ساتھ گھل